شاعری

مکڑی

اگر مکڑی دکھائی دے تو ڈرتی ہے مری بیٹی بڑا ہی خوف کھاتی ہے تقاضا مجھ سے کرتی ہے کہ اس کو مار ڈالوں میں مگر کچھ سوچ کر یارو اٹھا لیتا ہوں میں اس کو اور باہر چھوڑ آتا ہوں یہی مکڑی تھی کہ جس نے وہ غار ثور میں جالا تھا کچھ ایسے بنا ڈالا کہ دشمن بھی پہنچ کر واں نہیں ان تک پہنچ پائے بڑا ...

مزید پڑھیے

عجب ہے کھیل کیرم کا

سفید اور سیاہ گوٹوں کے حسیں اک دائرے اندر بہت ہی سرخ رنگت کی حسیں اک گوٹ ہوتی ہے کہ جس کو رانی کہتے ہیں ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہے اسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں انہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سے کھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سے آمد و رفت ان ...

مزید پڑھیے

شہر علم کے دروازے پر

کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہے نہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہے حکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھا شجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھا علیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھا مجھے تو بس صرف یہ خبر ہے وہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھا وہ ان کے ...

مزید پڑھیے

مرا ذہن مجھ کو رہا کرے

مرا ذہن دل کا رفیق ہے مرا دل رفیق ہے جسم کا مرا جسم ہے مری آنکھ میں مری آنکھ اس کے بدن میں ہے وہ بدن کہ بوسۂ آتشیں میں جلا بھی پھر بھی ہرا رہا وہ بدن کہ لمس کی بارشوں میں دھلا بھی پھر بھی نیا رہا وہ بدن کی وصل کے فاصلے پہ رہا بھی پھر بھی مرا رہا مجھے اعتراف! مرے وجود پہ ایک چراغ کا ایک ...

مزید پڑھیے

سوغات

گل دانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے رات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچا سارے رنگ اور ساری خوشبو انگ انگ میں بسی ہوئی ہے ساری دنیا نئی ہوئی ہے پر مجھ کو ان سب رنگوں اور خوشبوؤں سے ڈر لگتا ہے جن کا مقدر تنہائی ہو یا پھر ایسی رسوائی ہو جس کی آگ میں برس برس کے سجے ہوئے منظر جل ...

مزید پڑھیے

انتباہ

ہنڈولا جھولنے والے زمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے کی چاہ رکھتے ہیں تو پھر جھولیں مگر یہ یاد رکھیں زمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے والے فضاؤں میں معلق ہی رہیں گے جھلانے والے کے رحم و کرم پر دائرہ در دائرہ گردش کریں گے اور زمیں پر لوٹ کر بھی بے زمینی کے الم سہتے رہیں گے ہنڈولا جھولنے ...

مزید پڑھیے

التجا

مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میں بس اب سلامتیٔ جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں میں مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میں میں ایک بار پہلے بھی ہرے بھرے دنوں کی آرزو میں زیر دام آ چکا ہوں مجھ کو بخش دو میں اس سے پہلے بھی تو سایۂ شجر کی جستجو میں اتنے زخم کھا چکا ہوں مجھ کو بخش دو مرے شکاریو امان ...

مزید پڑھیے

کوچ

جس روز ہمارا کوچ ہوگا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی شیریں سخنوں کے حرف دشنام بے مہر زبانیں بند ہوں گی پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا ہمواریٔ ہر نفس سلامت دل پر کوئی داغ تک نہ ہوگا پامالیٔ خواب کی کہانی کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا معبود اس آخری سفر میں تنہائی کو ...

مزید پڑھیے

ایک تھا راجہ چھوٹا سا

علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو تتلیوں کے قریب جانے سے روکئے اسے روکئے کہ پڑوسیوں کے گھروں میں جھولے پڑے ہوئے ہیں تو اس سے کیا اسے کیا پڑی کہ کبوتروں کو بتائے کیسے ہوائیں اس کی پتنگ چھین کے لے گئیں علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو ...

مزید پڑھیے

ایک کہانی بہت پرانی

عجب دن تھے عجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھے زمانے مجھ سے کہتے تھے زمینیں مجھ سے کہتی تھیں میں اک بے بس قبیلے کا بہت تنہا مسافر ہوں وہ بے منزل مسافر ہوں جسے اک گھر نہیں ملتا میں اس رستے کا راہی ہوں جسے رہبر نہیں ملتا مگر کوئی مسلسل دل پہ اک دستک دیے جاتا تھا کہتا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 603 سے 960