ویران راستے کی پیمائش
ویرانے سے کاشانے تک بس ایک قدم کی دوری ہے ایک قدم ہو سکتا ہے ایک ساعت کا ایک حیوانی عمر کا یا ایک نوری سال کا ویران راستے کی پیمائش کے لیے خدا نے فرشتہ مقرر نہیں کیا
ویرانے سے کاشانے تک بس ایک قدم کی دوری ہے ایک قدم ہو سکتا ہے ایک ساعت کا ایک حیوانی عمر کا یا ایک نوری سال کا ویران راستے کی پیمائش کے لیے خدا نے فرشتہ مقرر نہیں کیا
گولکنڈہ حسن تہذیب و تمدن کا دیار عظمت افسانۂ ہستی کی زندہ یادگار سربلندی سے تری ملتا ہے جھک کر آسماں ذرہ ذرہ میں نظر آتا ہے مہر ضو فشاں ان فضاؤں میں پہنچ کر آہ کھو جاتا ہوں میں گم خیالوں کی حسین وادی میں ہو جاتا ہوں میں سامنے رکتے ہیں کتنے کاروان رنگ و بو جیسے یہ خاموشیاں ...
جگمگاتی ہوئی یادوں کے حسین آنچل میں آج پھر قافلۂ صبح و مسا ٹھہرا ہے شہر کے دل کے دھڑکنے کی صدا تیز ہوئی پیار کی چھاؤں میں اک گیت نے لی انگڑائی دور تاریخ کی بیتاب گزر گاہوں سے کتنے پھولوں کی مہک لے کے محبت آئی ہر طرف اب بھی ہم آغوش ہے تعبیروں سے ایک دل دار کے خوابوں کی جواں ...
اس سے پہلے کی ہم ایک غم ناک کہانی کے کردار ہو جائیں آؤ اپنے حصے کی دھوپ لے کر ہوا ہو جائیں کسی اور سیارے میں جا بسیں آدم اور حوا ہو جائیں پھر خطا کریں خدائی سے گھبرا کر اور اس جرم محبت کی سزا پائیں اک نئی دنیا کا سبب ہو جائیں
تمہارے لیے سنبھال کر رکھا تھا زمین کی کشش سے باہر ایک آسمان ایک گھوڑے کی پیٹھ اور ایک سڑک جس پر دھوپ چمکیلی بارش البیلی ہوتی ہے ایک مصرع لکھا تھا تمہارے لیے من کی مٹی میں دبا کر رکھی تھی تمہارے نام کی کونپل تمہارے لیے بچائی تھی لہو کی لالی رت جگے عقیدوں کی شکستگی آگ کی لپٹیں ایک ...
اداسی کی جھلمل جھیل کے پار میں نے دیکھا تمہاری لال چوڑیاں سبز ہنسی ہنس رہی تھیں اوس کی ایک قرمزی بوند تمہاری پیشانی پر دمک رہی تھی خوش خوابی کے ناخنوں سے تم اندیشوں کی گرہیں کھول رہی تھیں چاند کی نمی سے امکان کے بے کنار پنے پر کچھ لکھ رہی تھیں تمہاری انگلیاں اور تمہارے پاؤں کے ...
دل کو اس کے دکھ کی گھڑی میں تنہا چھوڑ دیا جسم نے لیکن ساتھ دیا دکھ کے گہرے ساگر میں دل کو چھاتی سے لپٹائے جسم کی کشتی ہول رہی ہے ڈول رہی ہے عقل کنارے پر بیٹھی میٹھا میٹھا بول رہی ہے دنیا کے ہنگاموں میں الٹی جست لگانے کو بازو اپنے تول رہی ہے
اک جنگل میں ہوئے اکٹھے سارے جانوروں کے بچے بھیڑ نے اپنا للا بھیجا گائے نے بھی بچھڑا بھیجا کتے کا پلا بھی آیا الو کا پٹھا بھی آیا بکری نے بھی میمنے بھیجے اور بلی نے بلوٹے بھیجے مرغی کے چوزے بھی آئے بطخ کے بچے بھی آئے گھوڑے کا چالاک بچھیرا بھینس کے کڑے کے ساتھ آیا باز کبوتر کوا ...
منی نے پہنا ریشم کا جوڑا بیری کا جھولا بنا ہے گھوڑا چابک نہ کھائی منہ بھی نہ موڑا دوڑا ہوا میں ہر شے کو چھوڑا رسی کو لیکن اس نے نہ توڑا بیری کا جھولا منی کا گھوڑا منی کی چنری گھوڑے کی دم ہے گھوڑا ہے ایسا پاؤں نہ سم ہے منی جو کہہ دے نظروں سے گم ہے
بھوری آنکھوں والی لڑکی تجھ سے پہلے میرے پاس بھی آتی تھی اپنے گھر کی اک اک بات سناتی تھی مہندی اور وسمے سے عاری کالے بالوں والی امی جلتے چراغوں جیسے آنکھوں والی بہنوں ان کے سنگتروں کی پھانکوں جیسے ہونٹوں دودھ کے پیالوں جیسے اجلے گالوں روشن جسموں سرو قدوں کے قصے سنایا کرتی ...