شاعری

گنتی

ایک اکن ایک ماموں لایا کیک دو اکن دو امی بولی لو تین اکن تین چچا گیا چین چار اکن چار چچی لائی کار پانچ اکن پانچ خالو بولے سانچ چھ اکن چھ خالہ اچھی ہے سات اکن سات بھیا کی بارات آٹھ اکن آٹھ منے کے ہیں ٹھاٹھ نو اکن نو آپا لائی جو دس اکن دس ابا بولے بس

مزید پڑھیے

بادل

شور مچاتے اٹھے بادل زور لگاتے اٹھے بادل اب ہیں گورے اب ہیں کالے اب ہیں لال اور اب مٹیالے کیا کیا رنگ بدلتے آئے پل میں ہاتھی پل میں گائے پل میں روئی کا اک ڈھیر پل میں بکری پل میں شیر ابھی تھا پاؤ اب ہے سیر ابھی تھا تیتر ابھی بٹیر اب اک سقہ مشک اٹھائے اب کشتی سی دوڑی جائے درخت ابھی ...

مزید پڑھیے

دس چوزے

اک دن بی مرغی سے چھپ کر نکلے سیر کو چوزے دس کچل کے بھاگی اک چوزے کو شہر کی نیلی اومنی بس باقی رہ گئے نو چوں چوں کرتے شور مچاتے آگے بڑھے یہ چوزے نو ٹھہر گیا اک چوزہ دیکھ کے کوڑے کے اک ڈھیر میں جو باقی رہ گئے آٹھ چوں چوں کرتے شور مچاتے آگے بڑھے اب چوزے آٹھ دیکھنے جوہڑ پر ایک ٹھہرا بطخ ...

مزید پڑھیے

خیبر میل

شام پشاور کا اسٹیشن سج کر بنا ہوا تھا دلہن اسٹیشن پر بھیڑ بڑی تھی سامنے خیبر میل کھڑی تھی لوگ ہی لوگ تھے اندر باہر کالے گورے افسر نوکر قلی اٹھائے ٹرنک اور بستر نمبر دے کر بھاگے اندر بابا نے ہم کو ٹھہرایا ٹکٹ کراچی کا کٹوایا بھیڑ بھڑکا شور شرابہ پیچھے ہم اور آگے بابا اپنی بغل میں ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

کاش تمہیں نہ دیکھا ہوتا دل میں غم کے پھول نہ کھلتے ہونٹوں پہ فریاد نہ ہوتی تنہائی کے درد نہ ملتے اپنی ہستی بار نہ ہوتی مرنے کا ارمان نہ ہوتا سانس بھی اک تلوار نہ ہوتی کاش تمہیں نہ دیکھا ہوتا آج اتنے مجبور نہ ہوتے سب لوگوں سے الفت کرتے اور خدا سے دور نہ ہوتے کاش تمہیں نہ دیکھا ...

مزید پڑھیے

سمندر اور تشنگی

سمندر کے کنارے چاندنی راتوں میں بیٹھا ان حسیں شاموں کو اکثر یاد کرتا ہوں وہ شامیں جب وہ میرے ساتھ ہوتی تھی سمندر کی نہایت شوخ لہروں میں اکٹھے ہم بھی پتھر پھینکتے تھے اور پھر ہم کھلکھلا کر ہنس دیتے تھے مگر اب چاندنی راتوں میں جب میں سیر کو جاتا ہوں تنہائی کا کمبل اوڑھ لیتا ...

مزید پڑھیے

خواب نگر

میرا من اک خواب نگر ہے میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے میرا من اک خواب نگر ہے میرے من میں چاہ کے چشمے امن کی نہریں آس کے دریا پیار سمندر ہر سو بہتے رہتے ہیں جن میں نہا کر اپنے بھی بیگانے بھی دانائی کی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

اسنو مین

شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھے برف کی اک پہاڑی سے کاٹا تراشا مرے ہاتھ پاؤں سجائے مجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کے بڑے پیار سے ایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیا مجھ سے کچھ دیر اٹھکھیلیاں دل لگی کا بہانہ بنیں اور پھر جانے کیوں چند بچوں کے ابرو ...

مزید پڑھیے

نیا عہد نامہ

برسوں سے یہ بام و در کہ جن پر مہکی ہوئی صبح کے ہیں بوسے یادوں کے یہی نگر کہ جن پر سجتے ہیں یہ شام کے دھندلکے یہ موڑ یہ رہ گزر کہ جن پر لگتے ہیں اداسیوں کے میلے ہیں میرے عزیز میرے ساتھی کب سے مرا آسرا رہے ہیں سنتے ہیں یہ میرے دل کی دھڑکن جیسے یہ مجھے سکھا رہے ہیں ہنس بول کے عمر کاٹ ...

مزید پڑھیے

کتبہ(۶)

میرا پیارا ننھا یہاں سو رہا ہے اسے پھول سے پیار تھا وہ خود پھول تھا میں ہر صبح آتا ہوں کچھ پھول لے کر اسے تازہ پھولوں کی چادر سے ڈھک کر چلا جاتا ہوں تاکہ کل صبح تک اس کی معصوم روح اپنے پھولوں کی آغوش میں مسکراتی رہے

مزید پڑھیے
صفحہ 518 سے 960