اثاثہ
تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام
تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام
وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو کہ جس کے دامن کی وسعتوں میں ضرورتیں لے رہی ہیں انگڑائیاں مسلسل افق افق پر انڈیلتی ہیں سراب کرتی ہیں ہر جہت کو غبار پہنائیاں مسلسل وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو جھلستی آنکھوں سے دیکھتی ہے فلک کی جانب دہکتے ہونٹوں سے چاہتی ہے سلگتے لہجے سے کہہ رہی ہے کوئی ...
یہی سب کچھ ہے اگر ٹھہری ہوئی گہری نظر سے دیکھو بے سبب آنکھ سے بہتی ہوئی اشکوں کی قطار کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کا سکوت جسم کے تند مہ و سال زمانے کی جھلستی ہوئی دوپہر میں سائے کے سلگتے اندام سانس کی لہر سے لرزا ہوا زلفوں کا حصار رقص کرتی ہوئی خواہش سے چھلکتے ہوئے زرد ایام تمام مان ...
چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے درمیاں تہذیب تھی اک زخم خواہش کی بندھے تھے جس سے ہم دونوں بہت مضبوط بندھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے خواب الجھاؤ کے پھیلاؤ پہ مبنی تھے جڑے تھے جس سے ہم دونوں مسلسل ایک الجھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں کہ زخم خواہش و خواب محبت رائگانی تھی مگر سب کچھ اگر ...
وہ عورت تھی مگر اک روپ میں ہونا اسے ہرگز نہ بھاتا تھا وہ ہمت میں کوئی مرد توانا تھی جسے محنت محبت اور انسانی زمانی جاودانی فلسفوں کے تحت جینا تھا وہ ایسی راہبہ تھی جس کے دامن میں دعائیں تھیں دوائیں تھیں مناجاتیں تمنائیں وفائیں کامنائیں سب اسے تقسیم کرنا تھا وہ ماں تھی جس نے ...
وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ ہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہے ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ...
آج کے دن تو یوں لگتا ہے جیسے لمحہ لمحہ تیری آنکھوں سے جھلمل جھلمل جھانکتا ہو ٹپک ٹپک کے قطرہ قطرہ تیرے میرے خواب کی دھن بنتا ہو آج کے دن تو ہر اک لمحہ رگ رگ دیپک آگ لگاتا ڈھلتا گھٹتا جاتا ہے بہتے بہتے سمے کا دھارا بہتا جاتا ہے ایک بھنور ہے اک ٹھہراؤ جن کے بیچ میں آج کے دن کا ہر اک ...
گھنٹیاں بجنے لگیں ڈھور چلتے کھیتوں کو راستے جاگ اٹھے ساری فضا جاگ اٹھی صبح کاذب کے دھندلکوں میں اجالے چھٹکے ہر شجر جاگ اٹھا باد صبا جاگ اٹھی اپنے شانوں پہ سجائے ہوئے عظمت کے نشاں اپنے کھیتوں کی منڈیروں کے نگہبان چلے جن سے تہذیب کے گوشوں نے جلا پائی ہے ان ضیا بار سویروں کے نگہبان ...
رشتوں کی بکارت بچانے میں محبت کام آ گئی تو کیا ملول نہ ہو محبت اور دنیا کے درمیان یہ رشتہ کانچ اور پتھر کا یوں ہی بنا رہے گا آئین تو یہی ٹھہرا ہے کہ فتح کا پرچم دنیا ہی لہرائے گی اور محبت زمین کی تہہ میں چھپ کر انتظار کرے گی دنیا کے فاصل بن جانے کا تو پشیمان نہ ہو اپنے پیماں کو ...
ایک سچی کہانی جب دھکیل دی جاتی ہے کسی فلمی کلائمکس کی طرف اپنا منہ چھپا لیتا ہے سورج پھیکے چاند کی اوٹ میں ایک دوسرے کے گرد گھومتے کبوتر مغموم ہو کر بیٹھ جاتے ہیں پروں میں منہ دے کر اور دھرتی تیاری کرتی ہے بار اٹھانے کی ایک قطرہ آنسو کا