گولکنڈہ کے سائے میں

گولکنڈہ حسن‌ تہذیب و تمدن کا دیار
عظمت افسانۂ ہستی کی زندہ یادگار


سربلندی سے تری ملتا ہے جھک کر آسماں
ذرہ ذرہ میں نظر آتا ہے مہر ضو فشاں


ان فضاؤں میں پہنچ کر آہ کھو جاتا ہوں میں
گم خیالوں کی حسین وادی میں ہو جاتا ہوں میں


سامنے رکتے ہیں کتنے کاروان رنگ و بو
جیسے یہ خاموشیاں کرتی ہیں مجھ سے گفتگو


فکر کی راہوں سے چھٹ جاتا ہے صدیوں کا غبار
سانس لیتی ہیں بہاریں جاگتے ہیں کوہسار


پتھروں کے دل دھڑکنے کی صدا سنتا ہوں میں
پھول امیدوں کے اسی گلزار میں چنتا ہوں میں


وقت کے ہاتھوں میں ہے آئینہ شام و سحر
جگمگا اٹھے ہیں سارے آرزو کے بام و در


دیکھتا کیا ہوں کہ ان سنگیں فصیلوں کے تلے
دور تک پھیلے ہوئے ہیں زندگی کے سلسلے


نور کے پرچم نظر آتے ہیں لہراتے ہوئے
جھوم کر اک داستان شوق دہراتے ہوئے


آسماں سے ٹوٹ کر دھرتی پہ آ جاتے ہیں خواب
کتنے ہونٹوں کا تبسم کتنے چہروں کے گلاب


دل کشی افکار میں ہے بانکپن جذبات میں
ایک نا معلوم نا ہلچل ہے محسوسات میں