حیدرآباد

جگمگاتی ہوئی یادوں کے حسین آنچل میں
آج پھر قافلۂ صبح و مسا ٹھہرا ہے


شہر کے دل کے دھڑکنے کی صدا تیز ہوئی
پیار کی چھاؤں میں اک گیت نے لی انگڑائی
دور تاریخ کی بیتاب گزر گاہوں سے
کتنے پھولوں کی مہک لے کے محبت آئی
ہر طرف اب بھی ہم آغوش ہے تعبیروں سے
ایک دل دار کے خوابوں کی جواں رعنائی
حسن کے نام سے باقی ہے چمک تاروں کی
عشق کے پاس ہے انداز چمن آرائی


تیری تہذیب کی راہوں میں لٹانے ہوں گے
دیدہ و دل کی امنگوں نے خزانے کتنے
ان فضاؤں میں ہے احساس وفا کی خوشبو
یہ در و بام سناتے ہیں فسانے کتنے
تیرے ماتھے پہ ہے الماس و گہر کی تابش
تیرے ہونٹوں پہ ہیں بے دار ترانے کتنے
تیری شاداب بہاروں سے گلے ملتے ہیں
زندگانی کے اجالوں میں زمانے کتنے


جگمگاتی ہوئی یادوں کے حسیں آنچل میں
آج پھر قافلۂ صبح و مسا ٹھہرا ہے