ہر شجر جاگ اٹھا

گھنٹیاں بجنے لگیں ڈھور چلتے کھیتوں کو
راستے جاگ اٹھے ساری فضا جاگ اٹھی
صبح کاذب کے دھندلکوں میں اجالے چھٹکے
ہر شجر جاگ اٹھا باد صبا جاگ اٹھی
اپنے شانوں پہ سجائے ہوئے عظمت کے نشاں
اپنے کھیتوں کی منڈیروں کے نگہبان چلے
جن سے تہذیب کے گوشوں نے جلا پائی ہے
ان ضیا بار سویروں کے نگہبان چلے
کچی اینٹوں کے مکانوں کا مقدر جاگا
آگ روشن ہوئی اپلوں کا دھواں پھیل گیا
در و دیوار سے یوں پیار کے سائے پھوٹے
زیست کا سایہ بھی تا حد گماں پھیل گیا
شور کرتے ہوئے شہزادے گھروں سے نکلے
جن کے ملبوس دریدہ بھی ہیں بوسیدہ بھی
جن کے قدموں سے لپٹتی ہے مرے گاؤں کی دھول
جن کی توقیر کو اٹھتے ہیں جہاں دیدہ بھی