وبا کے دنوں میں محبت
وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے
باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ
ہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہے
ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں
چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں
ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ہیں
بستر کی گرمی سے لپٹے ہوئے خود کو محفوظ کہتے ہیں
خوابوں کی ویکسین سے دل تسلی کا سامان کرتے ہوئے
اک محبت کے دونوں کنارے ملاتے ہیں
لیکن بہلتے نہیں ہیں
وبا کے دنوں میں ہم اپنے گھروں سے نکلتے نہیں ہیں