نامۂ عشق ہے خدا کے نام
میں بھی انجان تھا تم بھی انجان تھے لوگ حیران تھے عشق آسان تھا عشق آسان تھا اس کی افتاد مشکل نہ تھی اس قدر ابر کی چھاؤں میں یوں چلے جا رہے تھے نئے ہم سفر اس کے آگے مگر تھے عجب سلسلے پھر کڑے کوس تھے پھر کٹھن تھی ڈگر دور تک بے کراں ریگ صحرا تھی پھیلی ہوئی ایسی آندھی چلی میں بھی تھا ...