شاعری

نامۂ عشق ہے خدا کے نام

میں بھی انجان تھا تم بھی انجان تھے لوگ حیران تھے عشق آسان تھا عشق آسان تھا اس کی افتاد مشکل نہ تھی اس قدر ابر کی چھاؤں میں یوں چلے جا رہے تھے نئے ہم سفر اس کے آگے مگر تھے عجب سلسلے پھر کڑے کوس تھے پھر کٹھن تھی ڈگر دور تک بے کراں ریگ صحرا تھی پھیلی ہوئی ایسی آندھی چلی میں بھی تھا ...

مزید پڑھیے

دشت بے اماں

تجھے یاد کرتے کرتے تری راہ تکتے تکتے مرے اجنبی مسافر کئی دن گزر گئے ہیں کوئی شام آ رہی ہے: کوئی خوش نما ستارہ جو فلک پہ ہنس رہا ہے کسی مہ جبیں کی صورت جو نظر کو ڈس رہا ہے وہی ایک استعارہ تری یاد رہ گزر پر مرا ہم سفر بنا ہے وہی اک ضیا سلامت سر شام تیرگی میں مرے کام آ رہی ہے مرے راستے ...

مزید پڑھیے

عشق ماہی بغیر آب

جاگتے سوتے یہ خیال آیا تجھ کو سوچا تو یہ سوال آیا تم کہاں اور میں کہاں جاناں فاصلے کیوں ہیں درمیاں جاناں یوں ملے ہم کہ مل نہیں پائے پھول حسرت کے کھل نہیں پائے برق پر نامہ بر سوار ہوا دھوپ میں ابر سایہ دار ہوا پھر تعلق کے تار ٹوٹ گئے ہم پہ صدمے ہزار ٹوٹ گئے بے بسی کی عجیب شام ...

مزید پڑھیے

مقتل کی عید قرباں

کتنے آداب سے مقتل کو سجایا گیا ہے پھر تری بزم سے زندوں کو اٹھایا گیا ہے سچ کسی جھوٹ کی تخلیق نہیں کر سکتا جانے کیا ہے جو سلیقے سے چھپایا گیا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی فنا کی تصویر ایسی حکمت سے کھلونے کو بنایا گیا ہے عید قرباں سے مقدس نہیں کوئی تقریب اس طرح بھولا سبق یاد دلایا ...

مزید پڑھیے

لاجونتی

جس کے پہلو میں باغ جنت ہے اس کے پہلو سے اٹھ کے آیا ہوں جس کے پہلو میں آگ جلتی ہے اس کے پہلو میں جل کے دیکھا ہے جس کے پہلو میں برف جمتی ہے اس کو اپنی حرارتیں دے کر میں نے پانی بنا دیا لیکن زندگی تم کو شرم آتی ہے میری محبوب ہو گئی کب سے مجھ سے منسوب ہو گئی کب سے تم نے کاٹی فسادیوں کے ...

مزید پڑھیے

اجنبی فرمائش

اجنبی تجھ سے تعلق کا صلہ خوب ہے یہ تیری خواہش ہے کہ ہر روز نئی نظم لکھوں تیرے نام میری کوشش بھی عجب ہے لیکن روز تازہ نئے جذبات کہاں سے لاؤں کورے الفاظ کی سوغات کہاں سے لاؤں خشک آنکھوں کے کٹوروں سے میں برسات کہاں سے لاؤں اجنبی تو ہی بتا نسخۂ نایاب کوئی اجنبی مجھ کو دکھا خطۂ شاداب ...

مزید پڑھیے

یاران نجد

اے باد صبح گاہی دل کی کلی کھلا دے ویرانہ میرے دل کا رشک چمن بنا دے اس بزم جاں فزا کا نظارہ پھر دکھا دے گلزار آرزو میں پھر تازہ گل کھلا دے یہ کارزار ہستی ہے رنج و غم کی بستی پھر یاد بزم جم میں اک جام جم پلا دے اب شام زندگی کی ظلمت ہے چھانے والی وہ صبح دل کشا کا نظارہ پھر دکھا دے پستی ...

مزید پڑھیے

امن کا تہوار

کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہ آج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرور امن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیا مٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرور کہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دور کیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نور آج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاں دیپ ...

مزید پڑھیے

قدرت اور نعمت

جل تھل ہوا ہے آنگن برسا ہے خوب پانی کاغذ کی ایک کشتی ہم کو بنا دو باجی کشتی پہ بیٹھ کر ہم نکلیں گے سیر کرنے دیکھیں گے باغ سارا وہ دل فریب جھرنے تازہ ہوا کا جھونکا کلیوں کا مسکرانا وہ بھینی بھینی خوشبو پھولوں کا دل لبھانا سبزے پہ بکھری شبنم شاخوں کا جھول جانا اڑتی پری سی ...

مزید پڑھیے

دنیا کی جنت

یہ اسکول یہ میرے خوابوں کی جنت یہ ودیا کا ساگر کتابوں کی جنت یہاں بدھمانی کے سوتے رواں ہیں یہاں کی زمیں پر نئے آسماں ہیں وہ سب پھول کھلتے ہیں جو اس چمن میں مہکتے ہیں کھلتے ہی سارے وطن میں اندھیرا نہیں ہے یہاں روشنی ہے یہاں ہر طرف زندگی زندگی ہے یہاں کوئی ہنگامہ ہے اور نہ ڈر ہے یہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 515 سے 960