شاعری

تشکیل

میں ٹھنڈی برف کے ذروں سے پھر سے بن رہا ہوں تمہارے قرب کی حدت سے پانی ہو گیا تھا مگر اب پھر مری تشکیل ہونے جا رہی ہے میں پھر سے بن رہا ہوں تمہارے پیار کی حدت یقیناً روح ہے میری مگر یہ میرے ایک اک عضو کو پگھلا کے آب و آب کر دے گی یہ بہتر ہے کہ تم سے فاصلہ ہو نہ کوئی رابطہ ہو یہ حدت پھر ...

مزید پڑھیے

وطن کے واسطے

کیا ہوا گر مر گئے اپنے وطن کے واسطے بلبلیں قربان ہوتی ہیں چمن کے واسطے ترس آتا ہے تمہارے حال پر سے ہندیو غیر کے محتاج ہو اپنے کفن کے واسطے دیکھتے ہیں آج جس کو شاد ہے آزاد ہے کیا تمہیں پیدا ہوئے رنج و محن کے واسطے درد سے اب بلبلانے کا زمانہ ہو گیا فکر کرنی چاہیے زخم کہن کے ...

مزید پڑھیے

بینا

میں اکثر سوچتا ہوں مرے چشمے کا نمبر بڑھ رہا ہے مجھے اطراف کی چیزیں بھی کم دکھنے لگی ہیں بہت مانوس چہرے تھے وہ گم ہونے لگے ہیں مگر شاید حقیقت اور کچھ ہے میں اس منظر سے غائب ہو رہا ہوں

مزید پڑھیے

حشر

میں حیراں ہوں کہ کس منزل میں ہوں مری چاروں طرف اک بھیڑ سی ہے میں تنہا بھی نہیں ہوں مگر تنہائی سی محسوس ہوتی ہے تو کیا یہ حشر ہے سنا تھا حشر ہوگا ساری روحیں اک خدا ہوگا یہی موقع حساب و عدل کا ہوگا شفا کام آئے گی نہ رشتہ معتبر ہوگا سمجھ میں یہ نہیں آتا خدا میں ہوں یا یہ سب ہیں یہ سب کے ...

مزید پڑھیے

شمسہ

وہ نرگس بھی ہیرا بھی شمع بھی ایوان بھی تھا کتابوں میں خود تذکرہ سر ورق نفس مضمون دیبا بھی شمسہ بھی عنوان بھی تھا ابھی کچھ برس قبل اندر کے صفحوں پہ ٹھہرا ذرا دیر گزری تو صفحے پہ نیچے کی سطروں میں اترا وہ اب حاشیے پر پڑا ہے خدا جانے کب کون اس کو پڑھے گا پڑھے گا کبھی کہیں دل میں اک خوف ...

مزید پڑھیے

خواہش

یہ کیا پاگل تمنا ہے جو سوچو میں اتر گئی ہے پروں میں اک اجنبی ہوا بھر گئی ہے شام کے دھندلکے سے کہنا پڑے گا گھر لوٹنے کی خواہش مر گئی ہے

مزید پڑھیے

یہ گرتا ہوا شہر میرا نہیں

یہ آگ اور خوں کے سمندر میں گرتا ہوا شہر میرا نہیں ہوا سے الجھتا ہوا میں چلا جا رہا ہوں اندھیرا ہے گہرا گھنا بے اماں رات کے دشت میں تیرے میرے مکاں دور ہوتے چلے جا رہے ہیں لہو کے اجالے بھی معدوم ہیں اور تاریک گنبد میں معصوم روحوں کے کہرام میں بے صدا آسماں کی طرف خوں میں لتھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آزاد شہری: ایک تعارف

وہ مرنے پہ راضی نہیں تھا بڑا ڈھیٹ تھا شاہی فرمان پر اس نے اپنی زباں کاٹ لی تھی وہ آنکھوں سے اندھا تھا کانوں سے بہرا اسے اپنے چاروں طرف دیکھنے کی اجازت نہیں تھی سماعت پہ پابندیاں تھیں مگر شاہی دستور میں ذکر ایسی کسی بات کا بھی نہیں تھا وہ آزاد تھا اپنے گھر کی حدوں تک بدن کی تہوں ...

مزید پڑھیے

دلی 25 جون 1975

پل ہی پل میں یہ سارا تماشا ہوا شہر کے پانو میں سنسناتی ہوئی ایک گولی لگی اور وہ چکرا کے دھرتی پہ اوندھا گرا دیکھتے دیکھتے اس کے چاروں طرف خون کا ایک تالاب سا بن گیا جھاڑیوں سے ڈری سہمی چڑیاں اڑیں اونچے اونچے درختوں کے گنجان پتوں میں دبکے ہوئے سب پرندے اڑے چیختے چیختے اور دہشت ...

مزید پڑھیے

میرا جرم

دیوتاؤں نے مجھ سے کہا تھا کہ جب چندر ماؤں کے آئینوں پر گرد جم جائے گی اور سورج سمندر کی گہرائیوں میں اتر جائیں گے تب ہر اک رنگ کالک میں تبدیل ہو جائے گا رستہ رستہ اندھیرے بکھر جائیں گے اور تم کو ہوا بن کے چپ چاپ اندھے سفر پر نکلنا پڑے گا ہزاروں برس موت کی وادیوں میں بھٹکنا پڑے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 508 سے 960