شاعری

قید میں رقص

سب کے لیے نا پسندیدہ اڑتی مکھی کتنی آزادی سے میرے منہ اور میرے ہاتھوں پر بیٹھتی ہے اور اس روزمرہ سے آزاد ہے جس میں میں قید ہوں میں تو صبح کو گھر بھر کی خاک سمیٹتی جاتی ہوں اور میرا چہرہ خاک پہنتا جاتا ہے دوپہر کو دھوپ اور چولھے کی آگ یہ دونوں مل کر وار کرتی ہیں گردن پہ چھری اور ...

مزید پڑھیے

ہم گنہ گار عورتیں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ وہ سرفراز ٹھہریں نیابت امتیاز ٹھہریں وہ داور اہل ساز ٹھہریں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں تو ...

مزید پڑھیے

چڑیا اور کوئل

موٹا سا اک باجے والا چلتا چلتا جنگل آیا جنگل میں کوئل رہتی تھی پنجرے میں بند وہ بیٹھی تھی باجے کو دیکھ کے چہکی وہ مدت کے بعد ہی بولی وہ تو باجا بجا میں گاؤں گی نغمے میں اچھے سناؤں گی کوئل نے یوں گانا گایا باجے والا بھی مست ہوا تھی پاس ہی ایک چڑیا بیٹھی گانا سن کے وہ کہنے لگی کوئل بی ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

آج تو میرے کپڑے بھی پانی کی طرح بھاری ہیں موت کا کاجل آنکھوں میں لگانا اور آنکھوں میں پٹی باندھ کر تار پہ سائیکل چلانا ایک جیسا عمل ہے زندہ رہنے کا عمل مردہ زندگی کی دریوزگی سے انگور کی طرح رنگ بدل کر دو آتشہ ہونا پگھلی ہوئی موم بتی کی روشنی کے آخری وار کی طرح کاری ہوتا ہے بلی ...

مزید پڑھیے

روایت نہ ٹوٹے

ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلے وہ گھنے سبز جنگل ہیں جو بے پناہ شاخ در شاخ تابندگی تازگی کے تموج سے سنولا کے خود ہی جھلس جائیں ایسے جلیں ایسے جلیں کہ فقط دور تک کوئلہ کوئلہ ہی دکھائی دے اور تازگی کی نمو خاک سے بھی گواہی نہ دے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کو جلاپے کی مدت گزرنے پہ ان ...

مزید پڑھیے

سونے سے پہلے ایک خیال

مجھے نومبر کی دھوپ کی طرح مت چاہو کہ اس میں ڈوبو تو تمازت میں نہا جاؤ اور اس سے الگ ہو تو ٹھنڈک کو پور پور میں اترتا دیکھو مجھے ساون کے بادل کی طرح چاہو کہ اس کا سایہ بہت گہرا نس نس میں پیاس بجھانے والا مگر اس کا وجود پل میں ہوا پل میں پانی کا ڈھیر مجھے شام کی شفق کی طرح مت چاہو کہ ...

مزید پڑھیے

کشید شب

آج کی رات بھی پھر خواب جگائیں گے مجھے پھر وہ کروٹ سے خیالوں کے تسلسل کو مٹانے کی کشید کوشش جسم کے درد کو سلوٹ میں سمو کے وہی بستر پہ تڑپتے ہوئے مہجورئ جاناں کو کبھی آہ کبھی سانس کی گہرائی میں شل کرنے کی سعی ناکام یہ بھی معلوم ہے یہ نیم رسی فہم کی دیوار تلک جست یہ سائے کی تصویر کسی ...

مزید پڑھیے

دکن

جہاں فرد اپنی جگہ انجمن ہے جہاں ہر کلی اک مہکتا چمن ہے جہاں کی زمیں رشک چرخ کہن ہے جہاں شوخیاں ہیں ادا ہے پھبن ہے جہاں سادگی میں بھی اک بانکپن ہے جہاں رقص فرما ہوا موجزن ہے جہاں شعریت ہے جہاں قدر فن ہے جہاں علم و فن کے لیے اک لگن ہے جہاں حیرت و زور کا بھی وطن ہے جہاں انجمن واقعی ...

مزید پڑھیے

بابا گرو نانک دیو

ایک جسم ناتواں اتنی دباؤں کا ہجوم اک چراغ صبح اور اتنی ہواؤں کا ہجوم منزلیں گم اور اتنے رہنماؤں کا ہجوم اعتقاد خام اور اتنے خداؤں کا ہجوم کشمکش میں اپنے ہی معبد سے کتراتا ہوا آدمی پھرتا تھا در در ٹھوکریں کھاتا ہوا حق کو ہوتی تھی ہر اک میداں میں باطل سے شکست سرنگوں سر در گریباں ...

مزید پڑھیے

ذاکر‌ حسین

تیری فطرت میں ہے گوبندؔ کا آثار مگر ابنؔ مریم کا مقلد ترا کردار مگر رام اور کرشن کے جیون سے تجھے پیار مگر بادۂ حب محمد سے بھی سرشار مگر سکھ نہ عیسائی نہ ہندو نہ مسلمان ہے تو تیرا ایمان یہ کہتا ہے کہ انسان ہے تو ہندوؤں سے تجھے لینا ہے ذہانت کا کمال اور سکھوں سے شجاعت کہ نہ ہو جس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 507 سے 960