وطن کے واسطے
کیا ہوا گر مر گئے اپنے وطن کے واسطے
بلبلیں قربان ہوتی ہیں چمن کے واسطے
ترس آتا ہے تمہارے حال پر سے ہندیو
غیر کے محتاج ہو اپنے کفن کے واسطے
دیکھتے ہیں آج جس کو شاد ہے آزاد ہے
کیا تمہیں پیدا ہوئے رنج و محن کے واسطے
درد سے اب بلبلانے کا زمانہ ہو گیا
فکر کرنی چاہیے زخم کہن کے واسطے
ہندوؤں کو چاہیے کہ قصد کعبہ کا کریں
اور پھر مسلم بڑھیں گنگ و جمن کے واسطے