شاعری

خواب تماشا(۳)

سنجے بولے اتر دکشن پورب پشچم اب کوئی بھی منظر صاف نہیں نقشے ہیں کئی پیلے نیلے دو سیارے اوپر نیچے اک سورج سے ٹکرا ہی گیا ہر سمت وہی پیلی آندھی اور اندھے جھکڑ شعلوں کے تم کس نقطے کی پوچھتے ہو اب کوئی بھی منظر صاف نہیں اب کوئی نہیں ہاں وہ بھی نہیں یہ کس کا خواب تماشا ہے میں جس میں ...

مزید پڑھیے

رشتوں کی پہچان

ہمیں سب پتا ہے کہ ہم دھرتیوں کے نرالے فسوں سے ازل سے شناسا ہیں اور نیلگوں آسمانوں کا نشہ بھی ہم نے چکھا ہے انہیں غم یہی ہے کہ ان کے سروں پر کوئی آسماں ہے نہ پاؤں کے نیچے زمیں ہے فقط اک خریدا ہوا کرب قسمت ہے ان کی ہمیں سب پتا ہے انہیں لوٹنا ہے پشیمان ہو کر سفر کے دکھوں سے پریشان ہو ...

مزید پڑھیے

جنم دن

آسماں کی وسعتوں میں میری نظریں ڈھونڈھتی ہیں اس حسیں ماضی کو، جس کی یاد کے سائے بھی گھلتے جا رہے ہیں اب ہوا میں اور مری آنکھوں سے اوجھل ہو رہے ہیں لمحہ لمحہ میں پرانا سا کوئی انسان ہوں، محسوس یہ ہوتا ہے مجھ کو میں نے ہر ساون میں دھویا ہے بدن کو اور یہ دھرتی مجھے روز ازل سے جانتی ...

مزید پڑھیے

سب دروازے کھول دے

میں نے اپنے گھر کی ساری کھڑکیاں سب دروازے کھول دیے ہیں سرخ، سنہری سنگ اوشا بھی آئے کچے دودھ سے منہ دھو کر چندا بھی آئے تیز نکیلی دھوپ بھی جھانکے نرم، سہانی ہوا بھی آئے تازہ کھلے ہوئے پھولوں کی من موہن خوشبو بھی آئے دیس دیس کی خاک چھانتا ہوا کوئی سادھو بھی آئے اور کبھی بھولے ...

مزید پڑھیے

کیا دے سکتے ہو؟

کسی کو کیا دے سکتے ہو تم! چاند کسی کو دے سکتے ہو؟ تارے؟ یا پھر جگمگ جگنو کسی کو دے سکتے ہو؟ سوکھی شاخ کو ہرا سا پتہ پیاس کو شبنم کا اک قطرہ بجھی بجھی سی آنکھ کو جیوتی بھوک کو روٹی دے سکتے ہو؟ مجھے بتاؤ: دھوپ کو سایا دے سکتے ہو؟ دشت کو دریا دے سکتے ہو؟ تین سو پینسٹھ دنوں میں مجھ کو اک ...

مزید پڑھیے

وہ

سارا گھر جب سو جاتا ہے وہ گھر میں داخل ہوتا ہے سوتے بچوں کے پیروں کے پیار بھرے بوسے لیتا ہے بیوی کے نازک ہونٹوں کو اپنے گالوں سے چھوتا ہے پھر اپنے بستر پر جا کر سونے کی کوشش کرتا ہے جانے کب جھپکی آتی ہے جانے کب وہ سو جاتا ہے دیکھ کے کوئی خواب بھیانک سوتے سوتے چونک اٹھتا ہے رات رات ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ کی ایک صبح

سوکھی دھرتی پہ چپ چپ برسنے لگیں نیم کی پتیاں نیچے جھکنے لگا نیلگوں آسماں نام لے کر مرا دور سے جیسے کوئی بلانے لگا یاد آنے لگا ایک گزرا ہوا دن امیدوں بھرا ہلکے ہلکے سے رنگوں میں چلنے لگی دور کے شہر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا

مزید پڑھیے

رجائیت کی حمایت میں

بے ارادہ چلیں گے تو لا حاصلی کے مصائب سے بچ جائیں گے تم کہوگے کوئی پھول رکھ دوسرے ہات پر دل ہی دل میں میں رو دوں گا اس بات پر میں کہوں گا نہیں کچھ نہ کہہ پاؤں گا قہقہہ مار کر بس ہنسوں گا تمہیں بھی ہنسی آئے گی بے ارادہ یوں ہی بے ارادہ ہنسیں گے یوں ہی دیر تک پھر خیال آئے گا: تم نے اک بات ...

مزید پڑھیے

اس کا دکھ

وہ منتظر تھی ہزار صدیوں سے منتظر تھی میں ایک ذرہ ہوا کے رتھ پر سوار، ہنستا ہوا خلاؤں میں گنگناتا ہزارہا سال کے سبھی حادثوں کی گرمی رگوں میں بھر کر گھنے درختوں کے نرم سایوں میں آ کے اترا وہ منتظر تھی مجھے تھکن سے نڈھال دیکھا تو کھلکھلا کر لپٹ گئی مجھ سے بے تحاشا مرے بدن کو وہ رنگ ...

مزید پڑھیے

نیند

نیند میٹھی نیند آنکھوں میں بھری ہے دھند میں ہر چیز ڈوبی جا رہی ہے پانیوں پر جیسے بہتا جا رہا ہوں ساحلوں سے دور ہوتا جا رہا ہوں دیکھا ان دیکھا سا کچھ رنگ خلا ہے ایک بے آواز آواز ہوا ہے رشتۂ‌ رنگ و صدا سے کٹ گیا ہوں دھند گہری اور گہری ہو گئی ہے اک پرانی گونج دل میں گونجتی ہے دور کی اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 509 سے 960