شاعری

ایک نظم

گم شدہ خواب شب رفتہ کے روشن مہتاب آج کی رات سر بام اتر آئے ہیں گم شدہ چہرے مرے ماضی کے زریں اوراق ایک اک کر کے سر عام کھلے جاتے ہیں مجھ سے کچھ کہتی ہیں خاموش نگاہیں ان کی ان کی آنکھوں میں ابھی تک ہے وفا کی تنویر ان کے ماتھے پہ ابھی تک ہے وہی تابانی ان کے پیروں میں نہیں عمر رواں کی ...

مزید پڑھیے

دوزخ

موج صہبا میں تمنا کے سفینے کھو کر نغمہ و رقص کی محفل سے جو گھبرا کے اٹھا ایک ہنستی ہوئی گڑیا نے اشارے سے کہا تم جو چاہو تو میں شب بھر کی رفاقت بخشوں جنبش ابرو نے الفاظ کی زحمت بھی نہ دی نیم وا آنکھوں میں اک دعوت خاموش لیے یوں سمٹ کر مری آغوش میں آئی جیسے بھری دنیا میں بس اک گوشۂ ...

مزید پڑھیے

نالہ سرمایۂ یک عالم

کوئی بھولی ہوئی صورت کوئی بسرا ہوا خواب شب کے سناٹے میں کھلنے لگے احساس کے باب کوئی نغمہ مری خاموش محبت کے رباب یہ امیدوں کی کشاکش یہ تمناؤں کے جال جانے کس راہ سے گزرے گی امیدوں کی برات فاصلے بڑھتے گئے شوق سبک گام کے ساتھ تو ہی بول اے مری محرومی کی بڑھتی ہوئی رات کتنی دور اور ہے ...

مزید پڑھیے

این نکتہ کہ ہستم من

تم نے مجھ سے کوئی اقرار‌‌ رفاقت نہ کیا یہ نہ کہا تم سے بچھڑ جاؤں تو زندہ نہ رہوں میں نے تمہیں زیست کا سرمایہ مرا حاصل یک عمر‌ تمنا نہ کہا اس قدر جھوٹ سے دہشت زدہ تھے ہم کہ کوئی سچ نہ کہا میں نے بس اتنا کہا دیکھو ہم اور تم اس آگ کا حصہ ہیں جو خاشاک کی مانند جلاتی ہے ہمیں تم نے بس ...

مزید پڑھیے

اسپتال کا کمرہ

تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی نمود صبح کو درماں سمجھ کے کاٹی ہے رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کی ہر آہٹ اجل گرفتہ خیالوں کو آس دیتی ہے مگر وہ آنکھ جو سب دیکھتی ہے ہنستی ہے افق سے صبح کی پہلی کرن ابھرتی ہے تمام رات کی فریاد اک سکوت میں چپ تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی حریری ...

مزید پڑھیے

ترغیب

چلمنوں کے اس طرف جگمگاتی زندگی سامنے آ کر نقاب رخ کو سرکاتی ہوئی مجھ سے ہنس کر کہہ رہی ہے میرا دامن تھام لے ڈوبتے تارے نمود صبح سے سہمے ہوئے ملگجی دھندلاہٹوں میں جھلملا کر کھو گئے جاگتی آنکھوں میں اک گزری ہوئی دنیا لیے اس طرف میں ہوں مرے ماضی کی بڑھتی دھند ہے دھندلے دھندلے نقش ...

مزید پڑھیے

یا خدا

سارے افکار و عقائد کے طلسم سارے اصنام خیال ہم نے وہ بت شکنی کی ہے کہ مسمار ہیں سب اپنے گھر بار کی محفوظ فصیلیں ہم نے یوں گرائی ہیں کہ اب دور و نزدیک کی ہر تند ہوا سب چراغوں کو بس اک پھونک میں گل کر جائے ہم کہ ہر سلسلہ و قید کی زنجیر سے آزاد ہوئے ایسے مجلس کے مکیں ہیں کہ جہاں کوئی ...

مزید پڑھیے

نوحہ

سیہ رات میں ٹمٹماتے ستاروں کے نیچے خروشاں سمندر کی موجیں تجھے ڈھونڈھتی ہیں خروشاں ہوا کی صداؤں میں تیری صدا ہے مرا دل تجھے ڈھونڈھتا ہے سیہ رات اشکوں کی شبنم میں سوئی ہوئی ہے ہر اک پل ہر اک لمحہ ماضی کا زندہ ہے موجود میں جاگتا ہے مگر تیرا پیکر تہ خاک اندھیروں کے مامن میں سویا ہوا ...

مزید پڑھیے

پہلی موت

رات بھر نرم ہواؤں کے جھونکے وقت کی موج رواں پر بہتے تیری یادوں کے سفینے لائے کہ جزیروں سے نکل کر آئے گزرا وقت کا دامن تھامے تری یادیں ترے غم کے سائے ایک اک حرف وفا کی خوشبو موجۂ گل میں سمٹ کر آئے ایک اک عہد وفا کا منظر خواب کی طرح گزرتے بادل تیری قربت کے مہکتے ہوئے پل میرے دامن سے ...

مزید پڑھیے

بازگشت

خامشی رینگتی ہے راہوں پر ایک افسوں بہ دوش خواب لیے رات رک رک کے سانس لیتی ہے اپنی ظلمت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مضمحل چاند کی شعاعوں میں بیتے لمحوں کی یاد رقصاں ہے جانے کن ماہ و سال کا سایہ وقت کی آہٹوں پہ لرزاں ہے ایک یاد اک تصور رفتہ سینۂ ماہ سے ابھرتا ہے ہے یہ سرشاریٔ حیات کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 495 سے 960