نالہ سرمایۂ یک عالم
کوئی بھولی ہوئی صورت کوئی بسرا ہوا خواب
شب کے سناٹے میں کھلنے لگے احساس کے باب
کوئی نغمہ مری خاموش محبت کے رباب
یہ امیدوں کی کشاکش یہ تمناؤں کے جال
جانے کس راہ سے گزرے گی امیدوں کی برات
فاصلے بڑھتے گئے شوق سبک گام کے ساتھ
تو ہی بول اے مری محرومی کی بڑھتی ہوئی رات
کتنی دور اور ہے وہ شہر طرب خلد وصال
کہاں ڈھونڈوں تجھے اے صورت زیبائے خیال
شب کی آغوش میں خوابیدہ ہیں بے نور انجم
شوق کے ہاتھ میں ٹوٹے ہوئے پیمانہ و خم
آرزو وقت کے پھیلے ہوئے صحراؤں میں گم
کن حجابات میں روپوش ہے اے صبح جمال
ایک چوٹ ایک خلش ذوق تجسس کا مآل