یا خدا

سارے افکار و عقائد کے طلسم
سارے اصنام خیال
ہم نے وہ بت شکنی کی ہے کہ مسمار ہیں سب
اپنے گھر بار کی محفوظ فصیلیں ہم نے
یوں گرائی ہیں کہ اب
دور و نزدیک کی ہر تند ہوا
سب چراغوں کو بس اک پھونک میں گل کر جائے
ہم کہ ہر سلسلہ و قید کی زنجیر سے آزاد ہوئے
ایسے مجلس کے مکیں ہیں کہ جہاں
کوئی دروازہ کوئی روزن دیوار نہیں
یا خدا
کوئی غم ایسا کہ ہر غم کو سبک سار کرے
کوئی آگ ایسی کہ ہر آگ کو خاشاک کرے
کوئی مفہوم کوئی نقش تمنا کہ جسے
اپنے دل و جاں کا لہو نذر کروں
سرخ رو ہو کے کہوں
زیست کی یہ مہلت دو ایک نفس
اتنی بے رنگ نہ تھی
اتنی فرومایہ نہ تھی