این نکتہ کہ ہستم من

تم نے مجھ سے
کوئی اقرار‌‌ رفاقت نہ کیا
یہ نہ کہا
تم سے بچھڑ جاؤں تو زندہ نہ رہوں
میں نے تمہیں
زیست کا سرمایہ
مرا حاصل یک عمر‌ تمنا نہ کہا
اس قدر جھوٹ سے دہشت زدہ تھے ہم
کہ کوئی سچ نہ کہا


میں نے بس اتنا کہا
دیکھو ہم اور تم اس آگ کا حصہ ہیں
جو خاشاک کی مانند جلاتی ہے ہمیں
تم نے بس اتنا کہا
دیکھو اس آگ میں ہم دونوں اکیلے بھی ہیں
ساتھی بھی ہیں
اور ہم کرتے رہے عمر مہ و سال کے زخموں کا شمار
کہکشاں پھیکی ہے کچھ دیر کا مہمان ہے چاند
ڈوبتی رات میں ڈھلتے ہوئے سائے چپ ہیں
میری شریانوں میں یخ بستہ لہو حیراں ہے
اولیں قرب کی یہ آنچ کہاں سے آئی


اجنبی کیسے کہوں
تم تو مرے دل کے نہاں خانے میں سوئے ہوئے ہر خواب کا چہرہ نکلے