خوشبو
خوشبو کے دن اور رنگوں کی کچھ راتیں رہ جاتی ہیں
بھیگے بھیگے سے لمحوں کی برساتیں رہ جاتی ہیں
تھم تھم جاتی ہے سرگوشی وقت گزرتا رہتا ہے
کان کی بالی میں لہراتی کچھ باتیں رہ جاتی ہیں
رات گزر جاتی ہے لیکن خواب رکے رہتے ہیں وہیں
جاگتی آنکھوں میں اور خواہش کی سوغاتیں رہ جاتی ہیں
غازیہؔ لمحہ ایک ملن کا اور خزانے یادوں کے
عید گزر جاتی ہے پل میں راتیں رہ جاتیں ہیں