کرائے کے خواب
اب تو اس بازار میں
خوابوں کی ایک دوکان
دکھائی دیتی ہے
ٹنگے رہتے ہیں کئی
خوب صورت سے خواب
اٹھا کر چہرے پہ لگا لو
اور جی لو اسے
یہ خواب جو ٹنگے رہتے ہیں
اس دوکان میں
ان کو وہیں اتار کے
واپس رکھنا پڑتا ہے
کرایہ لگتا ہے ان کو جینے کا
یہ خواب
کسی کی جیبوں میں نہیں سماتے