شاعری

موٹر ڈیلر

ان کی کنپٹیوں کے نیچے کالی لمبی قلمیں ان کے رخساروں کے بھرے بھرے بھرپور غدودوں تک تھیں، تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ زرد گلاسوں کو ہونٹوں سے الگ کرتے۔۔۔۔۔ اور پھر دھیمی دھیمی باتیں کرتے اپنی نئی نئی ان داشتاؤں کی جن کے نام اور جن کے نرخ اس دن ہی اخباروں میں چھپے تھے

مزید پڑھیے

اور یہ انساں

اور یہ انساں ۔۔۔جو مٹی کا اک ذرہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے اپنے لیے ڈھونڈے تو اس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں زر کی چمک سے تہذیبوں کی چھب سے سلطنتوں کی دھج سے نہیں ۔۔۔نہیں تو۔۔۔ پھر کیوں مٹی کے اس ذرے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے کیا اس کی رفعت ہی کی ...

مزید پڑھیے

ایک شبیہ

کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن جب اچانک اسی جگہ اک شکل میری آنکھوں میں مسکرائی تھی ایک پل کے لیے تو ایک وہ شکل جانے کیا کچھ تھی جھوٹ بھی سچ بھی شاید اک بھول شاید اک پہچان کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے اب یہ سمجھنے لگا ہوں میں ہی تو ہوں جس کی خاطر یہ عکس ابھرا ہے کچھ دنوں سے تو اب میں ...

مزید پڑھیے

ماڈرن لڑکیاں

سنہری دوپہروں روپہلی رتوں میں سورج مکھی کے شگوفوں کے پاس چناروں سے قد آور ستاروں سے نین زر افشاں بدن زعفرانی لباس حسین گوریاں گنگناتی پھریں مٹکتی پھریں ڈگمگاتی پھریں کڑی دھوپ میں فاش زر سے تراشی ہوئی پنڈلیاں لہکتی پھریں تھرتھراتی پھریں سجل راستوں سے گزر جائیں یہ نگینوں بھرے ...

مزید پڑھیے

خودکشی

ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں کل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کا دو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کر اپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعد یوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا یوں طے ...

مزید پڑھیے

غریب

ننھی بھولی میلے میلے گالوں والی بے سدھ سی اک بچی تیری جانب دیکھ رہی ہے دیکھ اس کی آنکھیں تیری توجہ کی پیاسی ہیں اس کی نازک بے حس ٹھوڑی کو اپنی انگلی کی سنہری پور سے مس تو کر اور اس سے اتنا تو پوچھ اچھی بلو تو کیوں چپ ہے اور جب وہ منہ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے ہی چہرے پہ جھکا لے تو ہی ...

مزید پڑھیے

صبح جدائی

اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوں وہ صبح کا تارا ابھرا وہ پو پھوٹی اب میں جاتا ہوں جاتا ہوں اجازت جانے دو وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیں سورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی ...

مزید پڑھیے

بندا

کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول تو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میں اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں جوں ہی کرتیں تری نرم ...

مزید پڑھیے

اے ری چڑیا

جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے تو کس دھیان میں تیری چڑیا اے ری چڑیا بیٹھے بیٹھے تو نے کتنی لاج سے دیکھا پیتل کے اس اک تل کو جو تیری ناک میں ہے اپنی پت پر یوں مت ریجھ خبر ہے باہر اک اک ڈاین آنکھ کی پتلی تیری تاک میں ہے تجھ کو یوں چمکارنے والوں میں ہے اک جگ تیرا بیری چڑیا اے ری ...

مزید پڑھیے

جاروب کش

آسمانوں کے تلے سبز و خنک گوشوں میں کوئی ہوگا جسے اک ساعت راحت مل جائے یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے نہ سہی آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پر اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لے کوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے آسمانوں کے تلے تلخ و سیہ راہوں پر تو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 486 سے 960