شاعری

معذرت

میرے خواب گھروندے میں میرے ساتھ ہیں مردہ لمحوں کے بے رت باسی کلینڈر گزری کل کے بھیگے بھیگے سے پچھتاوے آنے والی کل کے بے کل سے اندیشے سوکھے پھولوں کی ٹہنی پر پت جھڑ کے جھونکوں سے اڑتی بے گھر تتلی پیلے پتوں کی مرجھائی بیل سے لپٹی سہمی چڑیا اس کی آنکھوں کے گہرے ویران سمندر کمرے کے ...

مزید پڑھیے

شاہ والا

ہم تو یوں بھی باج گزار تھے صدیوں کے ہم تو کتنی ہی نسلوں سے آپ کی کتنی ہی نسلوں کو حق نمک میں اپنے ایمان اور انا کا نذرانہ دیتے آئے تھے ہم نے تو اپنے حصے میں محل سرا کے پچھواڑے کی دھول چنی تھی اور راہوں میں اڑنے والے کچھ تنکے بھی جن سے گھونسلے بن سکتے تھے محل سرا کو ان تنکوں سے کیا ...

مزید پڑھیے

ملاح

یہ گاتے زلزلے یہ ناچتے طوفان کے دھارے ہوا کی نیتوں سے بے خبر ملاح بے چارے وہ طوفانوں کے حل چلنے لگے سیال کھیتی میں وہ کشتی آ کے ڈوبی گوہریں قطروں کی ریتی میں وہ ٹوٹیں موج کی شفاف دیواریں سفینوں پر وہ پھر لہریں ابھر آئیں ارادوں کی جبینوں پر وہ ٹکرانے لگی آواز نیلے آسمانوں سے وہ خط ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی ازل سے سارے پانیوں کو عبور کرتی ہوئی پھر ایک سنگم پر آ ٹھہری ہے قدامت کی کوکھ میں نئی چنگاریاں سلگ رہی ہیں جیسے نیا سورج چمکنے کو ہے لٹوں سے دریاؤں کے سوتے دور جدید کا بدل نہیں ہو سکتے سوچتا ہوں تم کس زمانے میں میرے وجود کا حصہ تھے لیکن کسی دیوتا نے جانے کیوں میرے وجود سے ...

مزید پڑھیے

موت تو یقینی ہے

اس طرح ستاتے ہو دوریاں بڑھاتے ہو دوریاں بڑھانے سے فاصلے نہیں بڑھتے حوصلے نہیں گھٹتے منزلوں کو پانے کا عزم جو بھی کرتا ہے وہ قدم بڑھاتا ہے چاند چھو کے آتا ہے تارے توڑ لاتا ہے تھک کے بیٹھ جانا تو موت کی علامت ہے اور میرا ایماں ہے موت تو یقینی ہے وقت پر ہی آئے گی پھر میں کس لیے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹا ہوا افق

میانوالی بھی اپنی رت بدلتا ہے مگر مرے دل کی زمینوں پر وہی موسم خزاں کا وہی بے شکل چہرہ آسماں کا وہی بے آب دریا داستاں کا وہی بے روح منظر ہیں وہی بے رنگ تصویریں وہی چشمے ،وہی ابلا ہوا پانی درختوں سے مسلسل بھاپ بن کر اٹھ رہا ہے پگھلتی جا رہی ہیں میری راتیں سوا نیزے پہ سورج ہے مگر شب ...

مزید پڑھیے

ڈپریشن

خوف کے جزیرے میں۔۔ قید ہوں میں برسوں سے دور تک فصیلیں ہیں اور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں، نوک دار کیلیں ہیں ڈالتا کمندیں ہوں۔۔۔ جیل کے کناروں پر۔۔۔ خار دار تاروں پر سیٹیاں سی بجتی ہیں دیر تک سماعت میں پہرے دار آتے ہیں بیڑیاں سی سجتی ہیں پاؤں کو اٹھانا، بھی ہاتھ کو ہلانا ...

مزید پڑھیے

یقین کی غیر فانی ساعت

شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب بھاگتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کے لئے اپنی مٹھی کھول کر پھر بند کر لیتا تھا وہ میں نے پوچھا ''کیا پکڑتے پھر رہے ہو صحن میں'' بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں ''ابھی کچھ دیر میں سورج ...

مزید پڑھیے

قضا نہیں ہونا تجھے

لوح کا راستہ، دھوپ کے شامیانوں سے ڈھانپا ہوا اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا۔۔۔ ساتھ چلتا رہا اور پھر ایک دن۔۔۔ دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا اک سنہری کنول یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔۔ شام کے وقت نے جیسے ابلیس سکہ کوئی پھینک دے رحم تاریخ کے سرخ کشکول میں آسماں رک گیا۔۔۔ رک گیا ...

مزید پڑھیے

مرحوم

کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو ہمیشہ ایک سا چہرہ لئے کیوں تکتے رہتے ہو ذرا ہونٹوں کو جنبش اور لفظوں کو رہائی دو اکیلا پڑ گیا ہوں میں ذرا میری صفائی دو ماں اکثر میری کھانسی پر تمہارا دھوکا کھاتی ہے یہ بڑ کی میری اک عادت تمہاری سی بتاتی ہے تمہاری یاد آتی ہے کبھی پوچھو کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 476 سے 960