موت تو یقینی ہے

اس طرح ستاتے ہو
دوریاں بڑھاتے ہو
دوریاں بڑھانے سے
فاصلے نہیں بڑھتے
حوصلے نہیں گھٹتے
منزلوں کو پانے کا
عزم جو بھی کرتا ہے
وہ قدم بڑھاتا ہے
چاند چھو کے آتا ہے
تارے توڑ لاتا ہے
تھک کے بیٹھ جانا تو
موت کی علامت ہے
اور میرا ایماں ہے
موت تو یقینی ہے
وقت پر ہی آئے گی
پھر میں کس لیے آخر
روک لوں قدم اپنے
موت کے فرشتے کو
روبرو کھڑا پا کر