سناٹا
سناٹا سا سناٹا ہے سب کو اپنی تنہائی ہے سب کے اپنے اپنے دکھ اندر کا کوئی میت نہیں ہے سانجھ کا کوئی گیت نہیں ہے سناٹا سا سناٹا ہے خاموشی ہے ویرانی ہے ناگن رات سی کالی چپ ہے
سناٹا سا سناٹا ہے سب کو اپنی تنہائی ہے سب کے اپنے اپنے دکھ اندر کا کوئی میت نہیں ہے سانجھ کا کوئی گیت نہیں ہے سناٹا سا سناٹا ہے خاموشی ہے ویرانی ہے ناگن رات سی کالی چپ ہے
دیوانے دل کس سوچ میں ہے دیوانے دل کن امیدوں پر جیتا ہے ہر رات اندھیرے لاتی ہے ہر رات اندھیرے لائے گی اور عمر بسر ہو جائے گی امیدوں کے ان موج موج دریاؤں میں دریاؤں کی گہرائی میں کیا تیرے لیے ہے ایک اذیت جینے کی کیا حاصل ہے ان موج موج دریاؤں کو دیکھتے رہنے کا اور پیاسے اور دیوانے ...
اسے جس نے تمہیں بلا لیا ہے سمندروں کے مسافرو اسے جا کے میرا سلام کہنا مسافرو جو سفر کی ساری صعوبتوں سے گراں بہا جب تمہارے اور مرے سفینے کا ناخدا دو جہاں کے ہمہ ذی حیات یہ دن یہ رات بھی جس کے گرد رکے ہوئے ہیں جہاں زمیں پہ جھکے ہوئے ہیں کلاہ تیرتے بادلوں کے جو نور ہے ہمہ نور ہے جہاں ...
کٹ گئے اپنی جوانی کے مہ و سال یوں ہی روز و شب کوچہ و بازار میں منڈلاتے ہوئے کبھی ہنس کر کبھی رو کر کبھی خاموشی سے دل بیتاب کو ہر گام پہ بہلاتے ہوئے حسن سے ہم کو عقیدت تھی سو ہر حالت میں گیت گاتے ہی رہے محفل خوباں کے لئے شاہراہوں پہ بیابانوں میں صحراؤں میں پھول ہم چنتے رہے ان کے ...
چمن میں لائی ہے پھولوں کی آرزو تجھ کو ملا کہاں سے یہ احساس رنگ و بو تجھ کو تری طرح کوئی سرگشتۂ جمال نہیں گلوں میں محو ہے کانٹوں کا کچھ خیال نہیں خزاں کا خوف نہ ہے باغباں کا ڈر تجھ کو مآل کار کا بھی کچھ خطر نہیں تجھ کو خوش اعتقاد و خوش آہنگ خوش نوا بلبل جگر کے داغ کو پر نور کر دیا کس ...
جانے والے سپاہی سے پوچھو وہ کہاں جا رہا ہے کون دکھیا ہے جو گا رہی ہے بھوکے بچوں کو بہلا رہی ہے لاش جلنے کی بو آ رہی ہے زندگی ہے کہ چلا رہی ہے جانے والے سپاہی سے پوچھو وہ کہاں جا رہا ہے کتنے سہمے ہوئے ہیں نظارے کیسے ڈر ڈر کے چلتے ہیں تارے کیا جوانی کا خوں ہو رہا ہے سرخ ہیں آنچلوں کے ...
اے جان نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے ترے لیے یہ زمیں بے قرار کب سے ہے ہجوم شوق سر رہ گزار کب سے ہے گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے نہ تابناکیٔ رخ ہے نہ کاکلوں کا ہجوم ہے ذرہ ذرہ پریشاں کلی کلی مغموم ہے کل جہاں متعفن ہوائیں سب مسموم گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے رخ حیات پہ کاکل کی ...
خواہشیں لال پیلی ہری چادریں اوڑھ کر تھرتھراتی تھرکتی ہوئی جاگ اٹھیں جاگ اٹھی دل کی اندر سبھا دل کی نیلم پری جاگ اٹھی دل کی پکھراج لیتی ہے انگڑائیاں جام میں جام میں تیرے ماتھے کا سایہ گرا گھل گیا چاندنی گھل گئی تیرے ہونٹوں کی لالی تری نرمیاں گھل گئیں رات کی ان کہی ان سنی ...
نکلے دہان توپ سے بربادیوں کے راگ باغ جہاں میں پھیل گئی دوزخوں کی آگ کیوں ٹمٹما رہی ہے یہ پھر شمع زندگی پھر کیوں نگار حق پہ ہیں آثار بیوگی عفریت سیم و کے کلیجے میں کیوں ہے پھانس کیوں رک رہی ہے سینے میں تہذیب نو کی سانس امن و اماں کی نبض چھٹی جا رہی ہے کیوں؟ بالین زیست آج اجل گا ...
ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج اک مسلسل گرد میں ڈوبے ہوئے سب بام و در جس طرف دیکھو اندھیرا جس طرف دیکھو کھنڈر مار و کژدم کے ٹھکانے جس کی دیواروں کے چاک اف یہ رخنے کس قدر تاریک کتنے ہول ناک جن میں رہتے ہیں مہاجن جن میں بستے ہیں امیر جن ...