زندگی
زندگی ازل سے سارے پانیوں کو عبور کرتی ہوئی
پھر ایک سنگم پر آ ٹھہری ہے
قدامت کی کوکھ میں نئی چنگاریاں سلگ رہی ہیں
جیسے نیا سورج چمکنے کو ہے
لٹوں سے دریاؤں کے سوتے
دور جدید کا بدل نہیں ہو سکتے
سوچتا ہوں
تم کس زمانے میں میرے وجود کا حصہ تھے
لیکن کسی دیوتا نے
جانے کیوں
میرے وجود سے تمہیں علاحدہ کر دیا
میں خود کو تلاش کرتا رہوں
جستجو
میرے خوابوں کو چھوتی رہی
اک نیا دور آئے گا
جہاں فاصلے نہیں ہوں گے