کاش
میں آگہی کے اس بھیانک دور سے گزر رہی ہوں
جہاں تمام لفظ کھوکھلے
اور بے معنی لگتے ہیں
جہاں تمام سچ جھوٹ لگتے ہیں
جہاں انسانوں کے نقاب میں
شیطان دکھائی دے جاتے ہیں
جہاں ہر بات اوپری اور بے مقصد
سی لگتی ہے
جہاں ہر رشتہ مطلبی اور خود غرض
دکھائی دیتا ہے
کاش
ایک بار پھر سے دنیا حسین نظر آنے لگے
کاش
ایک صبح میں سو کے اٹھوں
تو میری آنکھ وہاں کھلے
جہاں میں نے پہلا خواب دیکھا تھا