عورت

حق دار جس کی ہوں وہ محبت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


واقف نہیں ہے کوئی مرے اضطراب سے
ہر شخص مجھ کو پڑھتا ہے اپنے حساب سے
مجھ کو لکھا ہر ایک نے اپنی کتاب سے
جیسے بھی جس نے چاہا نوازا خطاب سے


وابستہ مجھ سے میری حقیقت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


جب چاہا مجھ کو ایک طوائف بنا دیا
مقصد ہی میرے جنم کا دل سے بھلا دیا
پھولوں کی سیج دی کبھی مجھ کو جلا دیا
سیتا بنا کے شعلوں میں مجھ کو بٹھا دیا


جینے کی ایک پل کو بھی راحت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


پل پل اندھیری رات میں جلنا پڑا بھی ہے
محفل میں بن کے شمع پگھلنا پڑا بھی ہے
گرنے پہ دوسروں کے سنبھلنا پڑا بھی ہے
جھوٹی تسلی پا کے بہلنا پڑا بھی ہے


وابستہ مجھ سے میری حقیقت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


جانا گیا نہ مجھ کو کبھی میرے نام سے
رشتوں میں مجھ کو باندھا گیا اہتمام سے
نسبت جو لوگ اپنی بتاتے ہیں رام سے
بن باس مجھ کو دیتے ہیں سیتا کے نام سے


باتوں میں اور عمل میں صداقت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


آتا ہے زندگی میں مری یہ بھی حادثہ
میری ہنسی زمانے کو لگتی ہے سانحہ
قربانیوں کا ملتا ہے کچھ اس طرح صلا
پھولوں کو پا لوں خوشبو سے رکھوں نہ واسطہ


قسمت کے کھوٹے سکے کو قیمت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی


میں جب نہیں رہوں گی بھلا کیا کریں گے آپ
ہر لمحہ میرے واسطے رویا کریں گے آپ
قربت کو میرے پیار کی ڈھونڈا کریں گے آپ
اک حشر اس جہان میں برپا کریں گے آپ


ہر دم یہی کہیں گے کہ عورت نہیں ملی
عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی