شاعری

مجھے گھر یاد آتا ہے

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو یہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا ہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیں کوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتی انہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجرا جسے ساحل نہیں ملتا میں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی ...

مزید پڑھیے

چل چلاؤ

بس دیکھا اور پھر بھول گئے جب حسن نگاہوں میں آیا من ساگر میں طوفان اٹھا طوفان کو چنچل دیکھ ڈری آکاش کی گنگا دودھ بھری اور چاند چھپا تارے سوئے طوفان مٹا ہر بات گئی دل بھول گیا پہلی پوجا من مندر کی مورت ٹوٹی دن لایا باتیں انجانی پھر دن بھی نیا اور رات نئی پیتم بھی نئی پریمی بھی نیا ...

مزید پڑھیے

یعنی

میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں لیکن اس میں کیا بات کہوں اک بات میں بھی سو باتیں ہیں کہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیں دل کہتا ہے میں سنتا ہوں من مانے پھول یوں چنتا ہوں جب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوں اور جیت جو ہو درانہ کہوں پل کے پل میں اک نظم لکھوں لیکن اس میں کیا بات کہوں جب یوں الجھن بڑھ ...

مزید پڑھیے

یگانگت

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے یہ میں کہہ رہا ہوں میں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے برائی بھلائی زمانہ ...

مزید پڑھیے

طالب علم

تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت اپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں اور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے پیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھا کس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والے سب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیں علم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہ علم ہر ...

مزید پڑھیے

لب جوئے بارے

ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اٹھ بیٹھی آنکھ نے صرف یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے یہ بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکے کیسے تلوار چلی، کیسے زمیں کا سینہ ایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا پیچ کھاتے ہوئے یہ لہر اٹھی دل میں مرے کاش! یہ جھاڑیاں اک سلسلۂ کوہ بنیں دامن کوہ میں میں جا کے ستادہ ...

مزید پڑھیے

جزو اور کل

سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں کہیں بھی نہیں ہے سمجھ لو کہ جو شے دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے وہ یہیں ہے یہیں ہے مگر اب کہاں ہے مگر اب کہاں ہے یہ کیا بات ہے ایسے جیسے ابھی وہ یہیں تھی مگر اب کہاں ہے کوئی یاد ہے یا کوئی دھیان ہے یا کوئی خواب ہے نہ وہ یاد ...

مزید پڑھیے

ہجر کی راتیں

ہجر کی راتیں کالی کالی اس پر یاد کسی کی جاری ایسے گہرے سناٹے میں کس سے کہیں ہم غم کی کہانی دنیا ساری سوتی ہے تارے گننا بے چینی میں آہیں بھرنا بیتابی میں آہ ہماری سونے والو اس حالت میں لاچاری میں رات بسر یوں ہوتی ہے کشتۂ غم کی اب تربت پر حسرت روتی ہے حسرت پر ایک اداسی کا عالم ...

مزید پڑھیے

نظم اتحاد

فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غم ہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و الم آئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستم کیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہم جب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہا بہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدا اس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجو چھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کو شکوہ ...

مزید پڑھیے

میرا سفر قدم قدم

نکلا ہوں خود کو ڈھونڈنے اس کا مگر ہے مجھ کو غم راہ جنوں دراز ہے میرا سفر قدم قدم مجھ کو خبر نہیں کہ یاں کتنے لٹے ہیں کارواں کتنی گری ہیں بجلیاں کتنے جلے ہیں آشیاں چاک ہے پردۂ وجود پھر بھی کوئی مرا نہیں کون ہے جس کے واسطے حکم سزا جزا نہیں عالم آب و خاک میں میرا ظہور بھی حجاب حشر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 463 سے 960