مجھے گھر یاد آتا ہے
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو یہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا ہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیں کوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتی انہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجرا جسے ساحل نہیں ملتا میں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی ...