شاعری

اے فرنگی

اے فرنگی کبھی سوچا ہے یہ دل میں تو نے اور یہ سوچ کے کچھ تجھ کو حیا بھی آئی نا مبارک تھا بہت ہند میں آنا تیرا قحط آیا تیرے ہمراہ وبا بھی آئی تیرے قدموں سے لگی آئی غلامی ظالم ساتھ ہی اس کے غریبوں کی بلا بھی آئی بن گئی باد سموم آہ اثر سے تیرے اس چمن میں جو کبھی باد صبا بھی آئی تیری ...

مزید پڑھیے

آفات مچھروں کی

آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کی ہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کی کم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کی ہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کی دیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوت کر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کی ہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کا نازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کی آتی ہیں ...

مزید پڑھیے

سلسلۂ روز و شب

خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہے اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے ہر اک سمت اس کے خلا ہی خلا ہے سمٹتے ہوئے دل میں وہ سوچتا ہے تعجب کہ نور ازل مٹ چکا ہے بہت دور انسان ٹھٹھکا ہوا ہے اسے ایک شعلہ نظر آ رہا ہے مگر اس کے ہر سمت بھی اک خلا ہے تخیل نے یوں اس کو دھوکا دیا ہے ازل ایک پل میں ابد بن گیا ...

مزید پڑھیے

اونچا مکان

بے شمار آنکھوں کو چہرے میں لگائے ہوئے استادہ ہے تعمیر کا اک نقش عجیب اے تمدن کے نقیب! تیری صورت ہے مہیب! ذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہے گویا ڈھل کے لہروں میں کئی گیت سنائی مجھے دیتے ہیں مگر ان میں اک جوش ہے بیداد کا فریاد کا اک عکس دراز اور الفاظ میں افسانے ہیں بے خوابی کے کیا کوئی ...

مزید پڑھیے

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں ذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں تخیل کا بڑا ساگر تصور کے حسیں جھونکے لیے آتے ہیں بارش میں تمنائیں عبادت کی مگر پوری نہیں ہوتی تمنا دل کی چاہت کی کسی عورت کا پیراہن کسی خلوت کی خوشبوئیں کسی اک لفظ بے معنی کی میٹھی میٹھی ...

مزید پڑھیے

جسم کے اس پار

اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہوں کہ بھولی بھٹکی کوئی کرن آ کے دیکھ پائے مگر سدا سے اندھیرے کمرے کی رسم ہے کوئی بھی کرن آ کے دیکھ پائے بھلا یہ کیوں ہو کوئی کرن اس کو دیکھ پائے تو اس گھڑی سے اندھیرا کمرہ اندھیرا نہیں رہے گا وہ ٹوٹ کر تیرگی کا اک سیل بے کراں بن کے بہہ اٹھے گا اور اس گھڑی سے ...

مزید پڑھیے

رقیب

تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھا اور ایسے رنگ میں جس کا کبھی گماں بھی نہ ہو نگاہ تند غضب ناک دل کلام درشت چمن میں جیسے کسی باغباں کی آنکھوں نے روش کے ساتھ ہی ننھے سے ایک پودے کو شگفتہ ہو کے سنورتے نکھرتے دیکھا ہو مری تمہاری کہانی یہی کہانی ہے روش پر سر کو اٹھائے ہر ایک سوچ سے ...

مزید پڑھیے

بغاوت نفس

زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی مانگتا ہے دل مرا دن رات کیوں قسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھی آ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوں کیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاب اس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جواب کیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کر کر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام ...

مزید پڑھیے

تن آسانی

غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیں چینی کی اینٹوں پہ وہ کہتی ہیں چھینٹا جو پڑے تو پل میں ایک اک بوند بہت جلد پھسل جاتی ہے کوئی پوچھے کہ بھلا بوندوں کے یوں جلد پھسل جانے میں کیا فائدہ ہے جب ضرورت ہوئی جی چاہا تو چپکے سے گئے اور نہا کر لوٹے دھل دھلا کر یوں ...

مزید پڑھیے

دھوبی کا گھاٹ

جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے کرنوں کی تمازت رشک آتا ہے مجھ کو اس پر کیوں صرف اچھوتا انجان انوکھا اک خواب ہے خلوت کیوں صرف تصور بہلاتا ہے مجھ کو کیوں صبح شب عیش کا جھونکا بن کر رخسار کے بے نام اذیت سہلاتا ہے مجھ کو؟ کیوں خواب فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے کیوں گیسوئے پیچیدہ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 460 سے 960