اے فرنگی
اے فرنگی کبھی سوچا ہے یہ دل میں تو نے اور یہ سوچ کے کچھ تجھ کو حیا بھی آئی نا مبارک تھا بہت ہند میں آنا تیرا قحط آیا تیرے ہمراہ وبا بھی آئی تیرے قدموں سے لگی آئی غلامی ظالم ساتھ ہی اس کے غریبوں کی بلا بھی آئی بن گئی باد سموم آہ اثر سے تیرے اس چمن میں جو کبھی باد صبا بھی آئی تیری ...