ٹافی اور مٹھائی

بازار سے لوٹ آئے ابا بھی اور امی بھی
منی کے لیے لائے ٹافی بھی مٹھائی بھی


بارات بھی نکلی تھی بریانی بھی پکی تھی
کس دھوم سے کی ہم نے کل گڈے کی شادی بھی


استاد کی فطرت میں نرمی بھی ہے سختی بھی
وہ پیار بھی کرتے ہیں کرتے ہیں پٹائی بھی


اب ڈیڈی بھی اور امی بھی پڑھتے ہیں مزے لے کر
مرغوب ہے دونوں کو ٹافی بھی مٹھائی بھی


کب ڈاکیہ آئے گا دے جائے گا کب ٹافی
بے چین ہیں بھیا بھی بیتاب ہیں باجی بھی


وہ بچے ہیں کیا اچھے اے مہرؔ جو پڑھتے ہیں
کلیاں بھی کھلونا بھی ٹافی بھی مٹھائی بھی