میں نہیں چاہتا

میں نہیں چاہتا کوئی بچہ
ریل گاڑی کا فرش
صاف کرے
نٹ کی رسی پہ اب نظر آئے
جسم کو موڑنے کا فن سیکھے
شیر کے منہ میں ہاتھ کو ڈالے
تپتے بھٹوں کی اینٹ کو ڈھوئے
ہوٹلوں اور شراب خانوں کی
اپنے دامن سے میز صاف کرے
سانپ کو رکھ کے
اک پٹارے میں
شاہراہوں پہ بھیک بھی مانگے
ناچ گانے سے سب کو
خوش کر دے
بوٹ پالش میں خوب ماہر ہو
ماں کے آنچل سے دور ہو جائے
باپ کے ساتھ کام پر جائے
میں تو یہ چاہتا ہوں ہر بچہ
اپنے بچپن میں صرف بچہ ہو