اڑنے والے پھول
آؤ دکھلائیں اڑنے والے پھول
اس چمن میں ہیں یہ نرالے پھول
کوئی سبز اور کوئی گلابی ہے
آتشی کوئی کوئی آبی ہے
کوئی نیلا ہے اور کوئی پیلا
جس کو دیکھو غضب کا رنگیلا
چھڑکی قدرت نے ان پر افشاں ہے
آنکھ صنعت پہ ان کی حیراں ہے
پتیاں دو ہیں کائنات ان کی
حد سے بڑھ کر مگر صفات ان کی
گھاس پر دیکھو ان کی آرائش
کیسی ہے دل فریب زیبائش
نرم نازک ہرے بھرے تنکے
جھکے جاتے ہیں بوجھ سے ان کے
دیکھنا تم نہ بڑھا دینا ہاتھ
کہیں ان کو لگا نہ دینا ہاتھ
یاں سے کر جائیں گے ابھی پرواز
ان کی ہستی کا ہوگا افشا راز
شاد ہو کر ہوا میں کھلیں گے
اس چمن کی فضا میں کھلیں گے
خوب اٹکھیلیاں کریں گے یہ
ناز سے شوخیاں کریں گے یہ
پھول سمجھے ہوئے تھے ہم جن کو
لوگ کہتے ہیں تتلیاں ان کو