شاعری

آخری دن کی تلاش

خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ لوگو میں نے تمہاری خاطر فلک بنایا فلک کو تاروں سے چاند سورج سے جگمگایا کہ لوگو میں نے تمھاری خاطر زمیں بنائی زمیں کے سینے پہ ندیوں کی لکیریں کھینچیں سمندروں کو زمیں کی آغوش میں بٹھایا پہاڑ رکھے درخت اگائے درخت پہ پھول پھل لگائے کہ لوگو میں نے تمہاری ...

مزید پڑھیے

گھر

اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھی گھر کی اک اک چیز سے مجھ کو نفرت ہے گھر والے سب کے سب میرے دشمن ہیں جیل سے ملتی جلتی گھر کی صورت ہے ابا مجھ سے روز یہی فرماتے ہیں ''کب تک میرا خون پسینہ چاٹو گے'' اماں بھی ہر روز شکایت کرتی ہیں ''کیا یہ جوانی پڑے پڑے ہی کاٹو گے'' بھائی کتابوں کو ...

مزید پڑھیے

گھوڑے پر اک لاش

گونج اٹھی ساری وادی زخمی گھوڑے کی ٹاپوں سے ٹاپوں کی آواز پہاڑوں سے ٹکرائی بکھری دھوپ کسی اونچی چوٹی سے گرتے پڑتے اتری بڑے بڑے پتھروں کے نیچے سایوں نے حرکت کی اڑتے گدھ کی آنکھوں میں تصویر بنی حیرت کی ریت چمکتی ریت، ریت اور پتھر اور اک گھوڑا گھوڑے پر اک لاش، لاش کو لے کر گھوڑا ...

مزید پڑھیے

بائیں آنکھ میں تل والے کی زبانی

اپنے خدا کو حاضر جان کے میں جو کہوں گا سچ ہی کہوں گا سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا مجھ کو کچھ معلوم نہیں ہے بس اتنا معلوم ہے صاحب کمرے میں اک لاش پڑی تھی لاش کے پاس اک شخص کھڑا تھا اس کی بائیں آنکھ میں تل تھا دودھ سے اجلا اس کا دل تھا سب کہتے ہیں وہ قاتل تھا!

مزید پڑھیے

مشورہ

راتوں کو سونے سے پہلے نئی پرانی یادوں کو الٹ پلٹ کرتے رہنا ورنہ کالی پڑ جائیں گی ادھر ادھر سے سڑ جائیں گی

مزید پڑھیے

کون؟

کبھی دل کے اندھے کنویں میں پڑا چیختا ہے کبھی دوڑتے خون میں تیرتا ڈوبتا ہے کبھی ہڈیوں کی سرنگوں میں بتی جلا کر یوں ہی گھومتا ہے کبھی کان میں آ کے چپکے سے کہتا ہے تو اب تلک جی رہا ہے؟ بڑا بے حیا ہے! مرے جسم میں کون ہے یہ جو مجھ سے خفا ہے

مزید پڑھیے

۱ُپہار رکچھا‌ بندھن

پریم جگت کے رہنے والو پریم سے رشتہ جوڑو ہردے ہے پربھو کا ڈیرا اسے کبھی نہ توڑو الٹی گنگا بہتی ہے بہنے دو اس کو چھوڑو اپنے جیون دھارا کو تم سیدھے رخ پر موڑو کرم کرے گا جو اچھا اچھائی پہ وہ مرے گا اور برا کوئی جو کرے گا ویسا ہی وہ بھرے گا پن کیا ہے جو بھی کسی نے اس کو تو وہ ملے گا باغ ...

مزید پڑھیے

لندن کی ایک شام

یہ رہ گزر یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام فراز کوہ سے جس طرح ندیاں سر پر لیے ہوئے شفق آلود برف کے پیکر سفید جھیل کی آغوش میں سمٹ جائیں یہ تند گام سبک سیر کارواں حیات ''نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم'' کدھر سے آئے کدھر جا رہے ہیں کیا معلوم سنہری شام یہ 'ای روس' جھلملاتا ہوا بندھا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

دوراہا

ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہ نہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادا یوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروش بے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیا یہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہور انتقامانہ تحکم کی نمود اس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہے یوں ہی یوں ہی سہی اک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہے چاک تو ...

مزید پڑھیے

غریبوں کی صدا

غریبوں کی فاقہ کشوں کی صدا ہے مرے جا رہے ہیں امیروں کے عیشوں کا انبار سر پر لدے ہیں زمانے کے افکار سر پر زمیندار کاندھے پہ سرکار سر پر مرے جا رہے ہیں شرابوں کے رسیا امیروں کا کیا ہے ہنسے جا رہے ہیں غریبوں کی محنت کی دولت چرا کر غریبوں کی راحت کی دنیا مٹا کر محل اپنے غارت گری سے سجا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 447 سے 960