شاعری

گڈے میاں کا سہرا

گڈے میاں نے باندھا ہے صحرا دیکھو تو کیسا اچھا ہے صحرا گڑیا دلہن ہے دولہا ہے گڈا دولہا دلہن کا پیارا ہے صحرا پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے محفل میں ساری مہکا ہے صحرا پھولوں کی لڑیاں پھولوں کی جھڑیاں خوشیوں کی گھڑیاں لایا ہے صحرا چاند اور سورج اس پر فدا ہیں تاروں کو دل سے بھایا ہے ...

مزید پڑھیے

گرمی

اب گرمی آ جائے گی ناک چنے چبوائے گی سورج سر پر آئے گا پرچھائیں چھپ جائے گی تپ کے زمیں اب سورج سے تانبا سی ہو جائے گی دھوپ میں چلنے پھرنے سے دیکھنا لو لگ جائے گی ہونٹ تری کوسیں گے خشک زباں ہو جائے گی شربت اور فالودے سے دل کی کلی کھل جائے گی برف بنے گی کثرت سے گھر گھر بکنے آئے گی ٹھنڈے ...

مزید پڑھیے

کہانی ہے یہ بطخ کی

کہانی ہے یہ بطخ کی کیا کرتی تھی جو کیں کیں وہ بطخ بن گئی بکری تو پھر کرنے لگی میں میں وہ بکری بن گئی طوطا تو وہ رٹنے لگا ٹیں ٹیں یہ طوطا بن گیا بھیڑا تو چلانے لگا بھیں بھیں یہ بھیڑا بن گیا چرخا تو وہ چلنے لگا ریں ریں یہ چرخا بن گیا باجا تو وہ بجنے لگا پیں پیں یہ باجا بن گیا بچہ تو وہ ...

مزید پڑھیے

ایک نقطہ

میرا جی چاہتا ہے نظم لکھوں اس کے لیے اس کی زلفوں کے لیے اس کی آنکھوں کے لیے اس کے انداز تکلم کے لیے جو مری روح کی تسکین کا سامان بنا اس کے ہر زوایہ جسم کی خاطر جو مرے جسم کی تزئین کی پہچان بنا میں مگر سوچتا ہوں جو سراپا ہے غزل اس کے لیے کیا لکھوں جو سمندر ہے اسے کس طرح دریا لکھوں اور ...

مزید پڑھیے

کردار

دیکھو، ہم سب ایک سفید کنول پر ٹیک لگائے تیر رہے ہیں اور محسوس یہ کرتے ہیں کہ ہم نے خود کو ناف زمیں سے مضبوطی سے باندھ رکھا ہے اپنی ہر خواہش کو ہم نے قتل کیا ہے تاکہ دل میں کوئی تمنا سر نہ اٹھانے پائے ذہن میں کوئی نیا خیال اگر در آتا ہے تو ہم اس پر خود اپنے ہاتھوں چونا کر دیتے ...

مزید پڑھیے

صدا کار

سننے والوں کو دھڑکتی ہوئی تنہائی میں کون در آتا ہے چپکے سے تمنا بن کر کس کی آواز ہواؤں کی سبک لہروں پر رقص کرتی نظر آتی ہے تماشا بن کر کون لفظوں کو عطا کرتا ہے تصویر کا حسن کون دل میں اتر آتا ہے مسیحا بن کر کس کی دھڑکن میں ہے کرداروں کے دل کی دھڑکن کون ابھر آتا ہے مہتاب کا ہالہ بن ...

مزید پڑھیے

قرب

تمام شب مرے کمرے کہ زرد کھڑکی پر کبھی ہواؤں کے جھونکوں نے آ کے دستک دی کبھی دھڑکتی ہوئی تیرگی نے سر پٹخا کبھی سمٹتی بکھرتی سی سرد بوندوں نے خموش شیشے کہ دیوار سے گلے مل کر وہ ایک بات بہ انداز محرمانہ کہی جو میں نے شب کی مہکتی ہوئی خموشی میں رفیق راہ محبت سے والہانہ کہی وہ رات جس ...

مزید پڑھیے

کانچ

تھکا ہارا ازل کی وسعتوں میں خاک کا پتلا ہزاروں من کی تاریکی تلے تھا ساکت و جامد ہر اک ذی روح کی نظروں کا مرکز، موجب حیرت چمکتے نوریوں کی شوکت بیتاب کا شاہد گھڑی میں کیا ہوا کیوں اس قدر مٹی کے پیکر نے عجب لرزہ، عجب جنبش، عجب حرکت سے بل کھایا کھنکتی خاک نے کیوں کانپنے کی ابتدا کر ...

مزید پڑھیے

پیٹو مل

پیٹو مل دودھ ملائی ہائے کھلاؤ دمڑی پائی کچھ تو دلاؤ نان خطائی کھاؤ کھاؤ ٹنگو بھائی لسی لاؤ ہائے ہائے بھوک لگی ہے قلفی والا آتا ہوگا جامن کالا لاتا ہوگا پیٹ کا چوہا گاتا ہوگا آنکھ میں جالا چھاتا ہوگا ہائے ہائے بھوک لگی ہے بوندی تازی برفی لڈو اچھی خاصی کھانا گڈو کھائیں باسی کیا ...

مزید پڑھیے

تذبذب

ہو تو سکتا ہے کسی دیو کے جیسے میں بھی لے اڑوں تجھ کو کہیں دور کی دنیاؤں میں دل کی دیواروں میں لو تیری مقید کر کے تشنہ آشاؤں کے قلعے کو منور کر لوں خواب دیرینہ کی تعبیر بنا کر تجھ کو اپنی آنکھوں کے کواڑوں میں مقفل کر لوں ساری دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر تجھ کو لے اڑوں رینگتے بل کھاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 440 سے 960