خواجہ سرا
چھیل چھبیلا ٹھمک ٹھمک کر بیچ سڑک میں آتی جاتی ہر گاڑی سے بھیک کی پونجی اچک رہا ہے فقرے کستے کالج کے نوخیز جوانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا مٹک رہا ہے چوراہے کا اشارہ بے شرمی سے گھور رہا ہے لال پراندہ لپک لپک کر نقلی کولھوں کو مس کرتا لٹک رہا ہے جعلی ڈھلوانوں سے وہ رنگین دوپٹہ ایک ...