شاعری

خواجہ سرا

چھیل چھبیلا ٹھمک ٹھمک کر بیچ سڑک میں آتی جاتی ہر گاڑی سے بھیک کی پونجی اچک رہا ہے فقرے کستے کالج کے نوخیز جوانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا مٹک رہا ہے چوراہے کا اشارہ بے شرمی سے گھور رہا ہے لال پراندہ لپک لپک کر نقلی کولھوں کو مس کرتا لٹک رہا ہے جعلی ڈھلوانوں سے وہ رنگین دوپٹہ ایک ...

مزید پڑھیے

نارسائی

چودھویں رات کے چاند اور زمیں کے مابین نارسائی کا جو دکھ ہے وہ ہمارا دکھ ہے سرمئی ہجر کی تا حد نظر پہنائی ان گنت تاروں کے جھرمٹ میں چھپی تنہائی چاند کے دکھ کا مداوا نہیں یہ یکتائی رخ مہتاب کو چھونے کی لگن میں بے تاب کہکشاؤں کی عروسہ کے مچلتے ارمان سینۂ بحر پہ بپھری ہوئی پاگل ...

مزید پڑھیے

عید کا دکھ

یہ مری پہلی عید ہے جس میں تو نہیں ہے تو سوچ کر تجھ کو میں تری یاد سے ملا ہوں گلے وہ سکوں بخش چھاؤں خواب ہوئی جو کڑی دھوپ میں میسر تھی تیری چھتنار شخصیت کے تلے دوست احباب رشک کرتے تھے تیری بھرپور پرورش کے طفیل ہم بہن بھائی جس طرح سے پلے تیرا احسان ہے کہ تو نے ہمیں علم و عرفاں سے ...

مزید پڑھیے

گیت پیار کے

پیار کی دکان کوئی کھولتا بول میٹھے بول کوئی بولتا تلخیاں فضا میں ہیں گھلی ہوئی مصری کی مٹھاس کوئی گھولتا بات جنگ کی نہیں کرے کوئی امن کے لئے جیے مرے کوئی گفتگو میں کاش ہر ایک آدمی بولنے سے پہلے لفظ تولتا سوکھے پھولوں کو کوئی نکھارتا کوئی اس چمن کو پھر سنوارتا گنگناتا گیت پیار کے ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ کی ذہانت

اکڑ شاہ نے دوستوں سے کہا مجھے تو ذہانت ہوئی ہے عطا کہا دوستوں نے اکڑ شاہ سے وہ پھنستا ہے اکثر اکڑ ہو جسے اکڑ کر اکڑ شاہ کہنے لگا اکڑ میرے اندر نہیں ہے ذرا میں کیوں خود کو بے عقل و مجنوں کہوں تواضع کی خاطر غلط کیوں کہوں تبسم چھپا کر کہا دوست نے اگر تو کہے آزمائیں تجھے ذہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ کاہلوں کا سردار

کیا کام جو بھی تو کھائی شکست بالآخر ہوئی اس کی ہمت ہی پست اکڑ شاہ بنتا گیا پوستی محلے کے سستوں سے کی دوستی سبھی سست مل جل کے رہنے لگے مشقت وہ آپس میں سہنے لگے انہی کاہلوں میں تھا اک مال دار جو سستی کا تھا نسبتاً کم شکار کہا اس نے سب کاہلوں سے سنو تم اپنے لیے ایک افسر چنو ہے اس ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ

اکڑ شاہ اک شخص نادان تھا وہ اس بات سے لیکن انجان تھا تھی اس کی طبیعت میں آوارگی حماقت وہ کرتا تھا یک بارگی وہ قرضوں کے مارے پریشان تھا اصول تجارت سے انجان تھا خریدار آتے تھے بس خال خال کہ موسم کا رکھتا نہ تھا وہ خیال کہ سردی میں وہ گولے گنڈے رکھے تو گرمی میں وہ ابلے انڈے ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ اور بقرعید

نظر آیا چاند اور ملی یہ نوید کہ دس دن کے بعد آئے گی بقرعید اکڑ شاہ دل میں لگا سوچنے اسی سوچ میں کھا گیا سو چنے کہ اس بار قربانی میں بھی کروں خدا سے محبت کا دم میں بھروں ارادہ یہ ظاہر کیا دوست پر کہ منڈی سے لاتے ہیں اک جانور چنانچہ اکڑ شاہ منڈی گیا بہت موٹا تازہ سا بکرا ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ اور ماہ رمضان

اکڑ شاہ بے حد پریشان تھا کہ اب جا رہا ماہ شعبان تھا بالآخر ہوا ختم شعبان بھی اور آیا مہینوں کا سلطان بھی لگا کرنے فوراً وہ تیاریاں وہ لے آیا کھجلا بھی اور پھینیاں اکڑ شاہ نے جم جم کے کیں سحریاں تلافی کو پھر کر لیں افطاریاں یہ روزے لگے اس کو بھاری بڑے مشاغل سبھی ترک کرنے ...

مزید پڑھیے

اکڑ شاہ مال دار ہو گیا

اکڑ شاہ غمگین ہر آن تھا وہ غربت کے مارے پریشان تھا وہ بستر پہ اک رات رونے لگا اسی رونے دھونے میں سونے لگا اٹھا جب وہ سو کر تو بیمار تھا بدستور غربت سے بیزار تھا پرانی سی اک چارپائی تھی بس بدن پر پھٹی اک رضائی تھی بس دوا ڈاکٹر سے وہ لینے گیا دوا ڈاکٹر دے کے کہنے لگا کہ محسوس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 441 سے 960