شاعری

نظم

یہ زندگی ہے جاوداں مثال آب جو رواں تو قید بند و ذات ہے کہ ذات بے ثبات ہے ہمارے درد کی دوا خودی کی کائنات ہے خودی کی کائنات میں نجات ہے ثبات ہے

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اپنے لہو سے سرشار کامراں نغمہ سرا چلتی رہی کارواں چلتے رہے بانگ درا ہوتی رہی معرکے سر ہوئے رن پڑتے رہے شمع تعمیر مگر جلتی رہی

مزید پڑھیے

محبت

کہتے ہیں کہ محبت کا کوئی موسم نہیں ہوتا لیکن میرے لیے تو ہر موسم محبت کا موسم ہے جب چاہا یادوں کے دیپ جلا کر روشنی کر لی کہ محبت کا موسم تو دل کے اندر ہوتا ہے

مزید پڑھیے

آنکھیں بھول آیا ہوں

جس کمرے میں تم دونوں اب پہروں تنہا رہتے ہو اس کمرے میں غور سے دیکھو میری کتنی یادوں باتوں اور کتابوں کے چہروں میں حرف وفا کے چھپے ہوئے ہیں ظالم گرد پڑی ہے ان پر اس کمرے کی اک اک شے کو غور سے دیکھو وہیں میں پاگل اپنی دونوں آنکھیں رکھ کر بھول آیا ہوں

مزید پڑھیے

معذرت

کوئی نظم کیسے کہیں کہ ہم نہ چراغ ہیں نہ مثال حرف گلاب ہیں نہ خیال ہیں نہ کسی کی آنکھ کا خواب ہیں کسی گم شدہ سی وفاؤں کی کسی شام میں جو بچھڑ گئے تو بچھڑنے والوں کی یاد میں کہیں ریت ہیں کہیں اشک غم کا غبار ہیں وہ جو دشت ہجر کا ہے کہیں اسی دشت شام جدائی کے یہ جو داغ ہیں تری یاد کے ترے ...

مزید پڑھیے

ہم تو جا چکے جاناں

اب یہ کیسی الجھن ہے اب یہ کیسا جھگڑا ہے بات تھی محبت کی اور تم محبت پر ایک ہی محبت پر کب یقین رکھتے تھے تم تو ہر گھڑی اپنی دلبرانہ آنکھوں میں اک نئی رفاقت کا خواب لے کے اٹھتے تھے اور اپنی شاموں میں اپنے خواب و خواہش کے بے لباس جذبوں کو شوق سے سجاتے تھے اور ایسے عالم میں جسم و جاں کے ...

مزید پڑھیے

فیصلہ

میرے ہاتھ پر لکھ دو فیصلہ جدائی کا اتنا مختصر لکھنا جتنی تم نے مجھ جیسے کم نصیب شاعر سے مختصر محبت کی اتنا مختصر لکھو فیصلہ جدائی کا جتنی مجھ میں سانسیں ہیں جتنی میری ہستی ہے جس میں آج سے پہلے وصل کے گلابوں کی روشنی مہکتی تھی فیصلہ جدائی کا اب طویل مت لکھنا جس طرح مری چاہت جس طرح ...

مزید پڑھیے

بے فیض موسم کی رفاقت میں

خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے یہ اپنی عمر کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے یقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہے خداوندا تجھے معلوم ہے میرے ہر اک جانب تری سو نعمتیں بکھری ہوئی تھیں ہزاروں راستے تھے منزلیں تھیں روشنی تھی رنگ تھے خوشبو تھی پھولوں سے لدی شاخیں تھیں خواہش ...

مزید پڑھیے

کھنڈر

نہ یہ فنا ہے نہ یہ بقا ہے میان بود و عدم یہ کیسا طویل وقفہ ہے جو نوشتہ ہماری قسمت کا بن گیا ہے کنار دریا کبھی یہ بستی تھی لیکن اب نیستی و ہستی کے درمیان اک مقام‌‌ برزخ ہے ایسا برزخ کہ جس میں صدیوں سے کاخ و کو بام و در مسلسل شکستگی خستگی خرابی میں خیرہ سر ہیں حدود ہستی سے ہم نکل کر ...

مزید پڑھیے

اناؤنسر

سرخ بتی نے اشارے سے کہا ہے بولو کھوج نظروں کا مٹا بات کے بندھن ٹوٹے میرے الفاظ کو لہروں کا کوئی پیمانہ چھین لے جائے گا دوری کے بہانے جھوٹے منہ سے جو نکلے اسی بات سے ناطہ چھوٹے دل میں باقی رہے موہوم سا احساس زیاں میں یہ سوچوں کہ ہر اک دشت بھی آبادی بھی میرے الفاظ کی تشہیر کا دیکھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 416 سے 960