رسوائی
ٹیکا لگاؤں مانگ بھی صندل سے بھر چکوں دلہن بنوں تو چاہیے جوڑا سہاگ کا مہندی رچے گی پوروں کہیں جا کے دیر میں کنگھی کروں تو چڑھتی ہے کالوں کی اور لہر افشاں ہے بخت بھی کہ رہا ان کے پھیر میں کہتی ہے سانجھ بھور کے اب گھاٹ اتر چکوں تم بیٹھو میں تو آئی پہ جی سے گزر چکوں اتنے دنوں تو دل کی ...