شاعری

رسوائی

ٹیکا لگاؤں مانگ بھی صندل سے بھر چکوں دلہن بنوں تو چاہیے جوڑا سہاگ کا مہندی رچے گی پوروں کہیں جا کے دیر میں کنگھی کروں تو چڑھتی ہے کالوں کی اور لہر افشاں ہے بخت بھی کہ رہا ان کے پھیر میں کہتی ہے سانجھ بھور کے اب گھاٹ اتر چکوں تم بیٹھو میں تو آئی پہ جی سے گزر چکوں اتنے دنوں تو دل کی ...

مزید پڑھیے

رات کی بات

چوڑیاں بجتی ہیں چھاگل کی صدا آتی ہے فرط بیتابی سے اٹھ اٹھ کے نظر بیٹھ گئی تھام کر آس ہر آہٹ پہ جگر بیٹھ گئی میرا غم خانہ عبارت رہا تاریکی سے موج مہتاب کہاں خاک بہ سر بیٹھ گئی شبنم آلود ہوا جاتا ہے شب کا داماں تارے چمکے ہیں کہ اب گرد سفر بیٹھ گئی بھیگتی رات نہا کر مرے اشک خوں ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

کیوں نہ اب تم سے تصور میں کروں بات سنو تم سے یہ کہنا ہے مجھے تم کہو گی نہیں میں وجہ سخن جان گئی یاد سے تیری ہی معمور ہیں دن رات یہ کہنا ہے مجھے تم کہو گی کہ میں ہستی کو کفن مان گئی راہ الفت میں کبھی ہوگا ترا ساتھ یہ کہنا ہے مجھے تم کہو گی میں زمانے کا چلن جان گئی کون بدلے گا یہ حالات ...

مزید پڑھیے

قریۂ ویراں

جھلسے پیڑ جلی آبادی کھیتی سوکھی خرمن راکھ ہست و بود کا مدفن راکھ گرتے بام و در کے لیے گلیوں کا آغوش جیسے یہ دیواروں کو تھے کب سے وبال دوش بار ہٹا تو آیا ہوش پنگھٹ اور چوپال بھی سونے راہیں بھی سنسان گلیاں اور کوچے ویران جھونکے سوکھے پتے رولیں بکھری راکھ اڑائیں راکھ اور پتے بن کے ...

مزید پڑھیے

شب ہجر کوئی کہاں گیا

تجھے یاد ہے سبھی جاں بہ لب ترے راستوں میں کھڑے رہے کہ دم وداع تجھے دیکھ لیں کہیں جھولیاں تھیں کھلی ہوئی کہیں چشم چشم عجیب رنگوں کا رقص تھا کوئی خواب تھا کوئی عکس تھا تجھے یاد ہے تو بتا مجھے پس شام شہر ہوائے دہر کو کیا ہوا شب ہجر کوئی کہاں گیا میں اٹھا جو بستر خواب سے تو کوئی نہ تھا ...

مزید پڑھیے

صبح کاذب میں ایک نظم

یہ سوچ کے دکھ ہوگا کیوں رات گئے ہم نے دروازہ کھلا رکھا کس شخص کی چاہت میں آنکھوں کی منڈیروں پر اک دیپ جلا رکھا

مزید پڑھیے

ذات کے اسم کا معجزہ

جب سے تجھ کو دیکھا ہے خواب کے وسیلے سے نیند کے جزیروں میں ہاتھ کی لکیروں میں جب سے تجھ کو چاہا ہے رات کی عبادت میں صبح کی دعاؤں میں دوریوں کی چھاؤں میں تب سے روح کے اندر سبز موسموں جیسی خواہشیں ہمکتی ہیں بارشیں برستی ہیں بجلیاں چمکتی ہیں گھنٹیاں سی بجتی ہیں

مزید پڑھیے

زمیں سے عشق

اے زمیں نازنیں ماہ جبیں اے مری گلفام پری تیرا حسن و شباب کیا کہنا جسم تیرا ہے جیسے تاج محل تیرا چہرا شفق کی لالی ہے تیری آنکھیں ہیں چاند اور سورج تیرے ابرو ہیں مثل قوس و قزح شاخ صندل ہیں مرمریں باہیں تیرے دنداں دمکتے موتی ہیں تیری پیشانی پہ دمکتا ہوا کاہکشاں کا جھومر لب ہیں تیرے ...

مزید پڑھیے

اندھے کنویں کی کہانی

میں نے بچپن میں سنی تھی اندھے کنویں کی کہانی جب کبھی مدتوں میں کوئی قافلہ بھٹک کر بیابان جنگلوں میں جا نکلتا اور پانی کی تلاش میں یہاں وہاں بھٹکتے ہوئے اسے ملتا ایک بہت گہرا اندھا کنواں اور کوئی مسافر فطری تجسس سے مجبور ہو کر اس اندھے کنویں میں اتر جاتا تب اسے وہاں ملتی ایک ...

مزید پڑھیے

خوشی کا لمحاتی تأثر

میرے بچوں کی جوانی ہے جوانی میری پھر نئی ہو گئی تصویر پرانی میری میرے آنگن میں کئی چاند ستارے اترے تیرے جلوؤں سے ہوئی شام سہانی میری تیرے لہجے میں ہے انداز تکلم میرا تیری گفتار میں رنگین بیانی میری تیرے آداب و خیالات میں آہنگ میرا تیری رفتار میں پوشیدہ روانی میری تیری صورت میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 417 سے 960