شاعری

بند دریچوں میں زندگی

بند دریچے، جو کبھی بند نہیں ہوتے جہاں کرنوں کے جھانکنے پر پہرے ہیں اندھیری کوٹھریوں میں زباں خاموش، جسم بولتے ہیں جب کوئی خواہش زادہ اپنی برہنہ خواہش لئے کسی بند دریچے کا رخ کرتا ہے تو پاکیزگی اور پیراہن کونے میں بیٹھ کر بین کرتے ہیں زخم آلود جسم کے اندر چیخیں کہرام برپا کر ...

مزید پڑھیے

حنوط چہرے

شہر دل کے خاموش گلی کوچوں میں دکھوں کے قافلے آ کر ٹھہرے ہیں حد نظر اداسی کی دھوپ پھیلی ہے وفا کے ٹھکرائے ستم پرور چہروں کی بھیڑ میں محبت کی در بدری کا فیصلہ ہوا ہے نفرتوں میں ڈوبے کچھ چہرے مل کے ایک خوش رنگ منظر کو ویرانیوں کے دشت میں دفن کرتے ہیں سفید پرندوں کی آنکھوں میں اشکوں ...

مزید پڑھیے

زندگی چہرہ مانگتی ہے

آج زندگی کی تاریخ تھی اور وہ اس کے سامنے چیخ رہی تھی جس نے آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی ''اب میں بے چہرہ کیسے جیوں؟ میں نے تو اپنا چہرہ کاٹ کاٹ کر بے چہرہ نسلوں میں بانٹ دیا میری کور چشمی گواہ ہے کہ میں نے اپنے سبھی منظر بے منظر آنکھوں کو دے دئے میری تمام خواہشیں نئی نسل نے بیچ ...

مزید پڑھیے

(۲) بے چہرگی

اپنی تاریخ کے اہراموں میں اتر کر دیکھیں عذاب مسلسل کی یہ فصل ہمارے پاس تاریخ کی نشانی ہے یا سرخ سیاہی سے ہماری نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے وہ آنکھیں، وہ ہاتھ، وہ چہرے اب کون ڈھونڈے۔۔۔؟ جنہوں نے حادثوں کو یہاں چلنا سکھایا اگر وہ مل بھی جائیں۔۔۔ تو انہیں کون پہچانے گا؟ انہوں نے تو ...

مزید پڑھیے

دراڑ

رشتوں کی عداوت میں دلوں میں جو دراڑ پڑتی ہے اس سے رستا خون کبھی نہیں رکتا یہاں تک کہ معصومیت سرخ چہرہ لئے پیدا ہوتی ہے ہم سب کی منزل ایک سفید شہر جو روشن چہرے والوں کا مسکن مگر ہم سرخ ہاتھ اور سرخ چہرے لئے کیسے اس شہر میں داخل ہوں گے؟

مزید پڑھیے

چوری شدہ خواب کی تلاش

جب رات خوابوں کے سلسلے لے کر اترتی ہے تو شب زادے اپنے خواب سجا کر سو جاتے ہیں مگر میری ویران آنکھوں سے نیند یہ کہہ کر رخصت ہو جاتی ہے کہ مجھے صرف ان آنکھوں میں رات کاٹنی ہے جہاں خوابوں کی حکمرانی ہے مگر اسے یہ کون بتائے کہ میرا خواب ایک مدت سے لاپتہ ہے تب سے میری آنکھوں نے نیند کا ...

مزید پڑھیے

نیا سجدہ

زندگی کی کہانی میں ایک ایسا بھی کردار نبھائیں کہ کاسۂ جاں میں ایسی خیرات ملے کہ ہم اندر سے سنور جائیں اور ان گنت ہونٹوں کے غاروں میں ہمارے نام سے دعاؤں کے اتنے دیپ جلیں کہ ہمارے مقدر کے جہاں میں گھات لگائے تاریکیوں کے لشکر روشنی کو سجدہ کر کے اپنی ہار کا اعلان کریں

مزید پڑھیے

وقت ایک کہانی کار

وقت سب سے بڑا کہانی کار جو ازل سے ہر چہرے پر آفاقی کہانیاں لکھ کر چہروں کو لمحہ بہ لمحہ داستاں کرنے میں مصروف ایک کہانی کی تکمیل کے لئے ان گنت کردار آسمان سے اترتے ہیں سیاہ و سفید ساعتوں کی بارش میں بھیگتے کورے چہروں پر وقت سزا جزا کی ایسی لا زوال کہانیاں تحریر کرتا ہے کہ کتنے ہی ...

مزید پڑھیے

(۲) پارلیمنٹ

ہم جان چکے کہ اس بند کمرے میں ہماری سانسوں پر گھٹن زدہ فیصلے لکھے جاتے ہیں ہماری آرزؤں کو بیچ کر دکھ خریدے جاتے ہیں خوف کو نگہبانی کے راز بتائے جاتے ہیں اور اناج کے نام پر بھوک تقسیم کی جاتی ہے بند کمرے میں جو کھیل کھیلے جاتے ہیں ان میں ہماری ہار لکھی جاتی ہے مگر۔۔۔ اب ہم نے جان ...

مزید پڑھیے

بقا

یہ کارواں نمود کا یہ سلسلہ وجود کا یہ آسماں یہ کہکشاں جو کچھ بھی نزد و دور ہے یہ ایک ہی وجود کی نمود ہے نہ ابتدا نہ انتہا فقط بقا

مزید پڑھیے
صفحہ 415 سے 960