شاعری

گالی

میں کبھی نہیں جان سکا گالی جذبے کی کون سی سطح ہے میں نے کبھی گالی نہیں دی مگر مجھے ہمیشہ گالیوں سے دلچسپی رہی میں ہر روز ہر طرح کی گالیاں سنتا ہوں گالی کسی کو بھی دی جائے اسلوب میں عورت ضرور آتی ہے میری ساری زندگی لفظوں کے درمیان گزری مجھے ہمیشہ لفظ نظر آتے ہیں گالی لفظوں کی ایک ...

مزید پڑھیے

دہکتی ہوئی یاد

میرے بدن سے ٹکراتی ہے اس کا لمس مجھے پاگل سا بنا دیتا ہے میں چیخ پڑتا ہوں گوشت جلنے کی بو فضا میں پھیلنے لگتی ہے میری آنکھوں میں رہنے والے آنسوؤں میں ایک چھناکے کے ساتھ دہکتی ہوئی یاد سرد ہونے لگتی ہے میں آس پاس کے منظر نامے کو دیکھتا ہوں جو بدلا ہوا ہوتا ہے میں سرد پڑنے والی یاد ...

مزید پڑھیے

میرا لمس

تمہارا احساس سفید ریشم سے بنا ہوا ہے میں اسے چھونے سے ڈرتا ہوں میرا لمس اسے میلا نہ کر دے احساس سے زیادہ اجلی لڑکی تمہاری اجلاہٹ ہی تمہارا وصف ہے تم تو خود بھی اپنے آپ تک نہیں پہنچ سکیں میں تم سے پہلے تم تک کیسے پہنچوں میرا میلا پن مسلسل تمہیں گھور رہا ہے

مزید پڑھیے

زبان

مجھے صرف نفرت کی زبان آتی ہے نفرت کا لغت نویس بن کر میں اپنی زبان بھول چکا ہوں محبت میری ماں بولی تھی مگر زندہ رہنے کے لیے مجھے نفرت کی زبان سیکھنی پڑی میں ایک لڑکی کو تلاش کر رہا ہوں وہ مجھے محبت کی متروک زبان سکھا دے گی ایک لڑکی اپنی ماں بولی کبھی نہیں بھولتی

مزید پڑھیے

تمہیں غصہ آتا ہے

تمہیں غصہ آتا ہے میری بھولنے کی عادت پر میں تمہارے پاس نظموں کی کتاب بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو میں اپنی عینک تمہارے پاس بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو میں اپنا قلم تمہارے پاس بھول جاتا ہوں تم اسے لوٹا دیتی ہو مجھے بھی تمہاری طرح اپنی بھولنے کی عادت پر غصہ آتا ہے میں کچھ ...

مزید پڑھیے

ہم

ہم بہت چھوٹے ہیں ہمارے خواب ہم سے بھی چھوٹے ہیں ہمیں ممانعت کی جاتی ہے خود سے بڑا خواب دیکھنے کی ہمارے خواب اتنے چھوٹے ہیں کہ ہم بھی ان میں داخل نہیں ہو سکتے

مزید پڑھیے

شرارت کا انجام

ایک لڑکا تھا کہ جس کا نام تھا عبد العزیز اس کو آتا ہی نہ تھا کچھ بھی سلیقہ اور تمیز حرکتوں سے تنگ اس کی سب محلہ دار تھے پیار کرتا ہی نہ تھا کوئی سبھی بیزار تھے کام ہی اس کو نہ تھا کوئی شرارت کے سوا گھومتا پھرتا تھا یوں ہی شام تک وہ جا بجا بھاگ جاتا تھا کسی بچے کے منہ کو نوچ کر پھاڑ ...

مزید پڑھیے

بچپن

یہ بچے جن کو مائیں لوریاں دے کر سلاتی ہیں بٹھا کر اپنے پنکھوں پر جنہیں پریاں اڑاتی ہیں عجب ہوتی ہیں ان کی خواہشیں ہر شے کو پانے کی کبھی کرتے ہیں یہ ضد چاند تارے توڑ لانے کی انہیں موقع جو مل جائے شرارت خوب کرتے ہیں محبت کرنے والوں سے محبت خوب کرتے ہیں کچھ ان میں پڑھنے لکھنے کے بہت ...

مزید پڑھیے

تربوز

پیارے بچو میں اک پھل ہوں بوجھو میرا نام خربوزہ تربوز ہوں میں یا نارنگی یا آم شوق سے کھائیں بچے بوڑھے راجہ اور عوام بھاری بھرکم جسم ہے میرا قد جیسے فٹ بال باہر سے میں ہرا ہرا ہوں اور اندر سے لال ابو جب بازار سے آئیں ساتھ مجھے بھی لائیں امی بھائی باجی بے بی سب مل جل کر کھائیں میرا ...

مزید پڑھیے

انگور

بیلوں میں جو لٹک رہے ہیں یہ انگوروں کے خوشے ہیں ہرے ہرے اور پیلے پیلے جیسے ہوں موتی چمکیلے میٹھا میٹھا ان کا مزہ ہے رب نے ان میں شہد بھرا ہے ان کو پسند ہر اک کرتا ہے بیماروں کے لیے غذا ہے ان کو جب بھی کھاتے ہیں ہم اچھی صحت پاتے ہیں ہم جس نے ایسی نعمت دی ہے جس نے ہر شے پیدا کی ہے جانتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 399 سے 960