شاعری

محبتوں کا یہ طور سینا

سنو مسافر یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہوگی کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے اداس چہروں پہ ہی رقم ہے سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں سے ہی سجاؤ یہ دل کی زرخیز جو زمیں ہے تم اس پہ خوشیوں کے رنگ کاڑھو اسے گلابوں سے ہی ...

مزید پڑھیے

اے دل میرے ناشاد مرے

ہم زاد مرے برباد مرے اک عمر سے اس زنداں میں ہوں پر کھول مرے آزاد تو کر مرے پیروں میں زنجیر وفا اسے توڑ ذرا مجھے جوڑ ذرا مجھے جینے کی تہذیب تو دے مری سانسوں کو ترتیب تو دے اب خود کو ذرا تو شاد تو کر مجھے جیون سے آزاد تو کر تو جانتا ہے اس جیون کو یہ مدفن ہے ہر حسرت کا یہ جیون ہے اک موت ...

مزید پڑھیے

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

نصیب والوں کے دل میں جب بھی یہ جاگتی ہے تو پہلے نیندیں اجاڑتی ہے یہ جھومتی ہے یہ ناچتی ہے یہ پھیلتی ہے یہ بولتی ہے ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے صلیب ہوتی ہے یہ محبت عجیب ہوتی ہے یہ محبت یہ پھیلتی ہے تو پیڑ بنتی ہے چھاؤں کرتی یہ روپ دیتی یہ چھاؤں کر ...

مزید پڑھیے

اے مرے مہرباں

پوچھتی ہوں تمہیں اک سوال آج میں پوچھتی ہوں وہ لمحے کہاں ہیں بھلا جو ترے پاس تھے جو مری آس تھے میرے لمحے بھلا دھول کیسے ہوئے خواب وہ وقت کی دھول کیسے ہوئے کیسے بجھنے لگے تھے ستارے سبھی کیسے جگنو اندھیروں میں خود کھو گئے تتلیاں پھول سے دور کیسے ہوئیں ابر سے آگ کیسے برسنے لگی زندگی ...

مزید پڑھیے

نظم

مرے شہر میں مری آخری وہ عجیب شب تھی وصال کی کہ چمن میں چھایا دھواں سا تھا کہاں شبنمی وہ بہار تھی وہ چنبیلی خوشبو بکھیرتی وہ بھری سی شاخیں گلاب سی کہ ہر ایک پتی تھی نوحہ خواں تھی کلی کلی بھی نڈھال سی تھے وہ مجھ سے جیسے گلہ کناں میں چلی ہوں کیوں انہیں چھوڑ کے تھیں لرزتی کانپتی ...

مزید پڑھیے

خواہش

ایک عجیب خواہش ہے اس زمیں کے کونے میں صرف مہ جبینوں کی سب کی سب حسینوں کی اپنی ایک بستی ہو زندگی جہاں ہر پل کھلکھلا کے ہنستی ہو رنگ و نور کی بارش ہر گھڑی برستی ہو سب غزال نینوں میں شوخ سی شرارت ہو ان کی جنبش لب سے زندگی عبارت ہو خوشیوں کا جھمیلا ہو پلکوں پہ ستارے ہوں روشنی کا ریلا ...

مزید پڑھیے

ماں

جن بچوں کو اپنا سارا جیون دے کر پالا پوسا وہ بچے جب دور گئے ہوں ان کی راہ تکتی رہتی ہے ان کی یاد میں کھو جاتی ہے چپکے چپکے روتی ہے روتے روتے سو جاتی ہے ماں جب بوڑھی ہو جاتی ہے

مزید پڑھیے

ماہ تمام

نہ جانے کیوں مجھے اکثر گمان ہوتا ہے مہ تمام فقط دیکھتا نہیں ہے ہمیں وہ جبر و قید مسلسل پہ اک مشقت کی ہزاروں سال سے اس بے کراں مسافت کی بساط وقت کی اک داستاں سناتا ہے سمجھ سکیں تو بہت کچھ ہمیں بتاتا ہے

مزید پڑھیے

محبت میں خدا بھی مبتلا ہے

محبت زندگی ہے محبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہے یہ ویرانوں میں خود رو نغمگی ہے محبت جرأت اظہار ہے کردار ہے محبت دیدۂ بے دار ہے پندار ہے ایثار ہے محبت جان دیتی ہے محبت مان دیتی ہے محبت بے نشاں رشتوں کو بھی پہچان دیتی ہے محبت عقل بھی ہے محبت ماورائے عقل بھی ہے محبت ہجر بھی ہے وصل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 382 سے 960