شاعری

وہ

اس کا چہرہ اس کی آنکھیں اس کے ہونٹوں کی جنبش جیسے چاند جیسے جھیل جیسے بارش کی آواز

مزید پڑھیے

اگر تم فرض کر لو

اگر تم فرض کر لو تم میرے کار نشاط و وصل کا یکتا ذریعہ ہو تمہارے حسن کی پر پیچ گلیوں کا میں اک تنہا مسافر ہوں ہمیں ہر روز مشق وصل کے ہیجان سے ہو کر نئی منزل کو پانا ہے نئی مستی کا اک سیلاب لانا ہے اور اس سیلاب میں سارے جہاں کو ڈوب جانا ہے میں واقف ہوں کہ یہ ممکن نہیں لیکن اگر تم فرض کر ...

مزید پڑھیے

قصور

اپنی آنکھیں ذرا مجھے دینا میں دکھاؤں تری نظر سے تجھے پھر بتانا قصور کس کا ہے

مزید پڑھیے

آویزے

تیرے نوخیز آویزے یہ دل آویز آویزے ذرا سا تم جو رکتی ہو پلٹ کر مسکراتی ہو تیرے گالوں کو چھوتے ہیں شرارت خیز آویزے تجھے پانے کی خواہش کو کریں مہمیز آویزے ستم انگیز آویزے یہ دل آویز آویزے

مزید پڑھیے

اعتراف

تمہیں ہے فخر کہ تم ہو مری شریک حیات مجھے یہ دکھ ہے کہ تم میری ہم سفر ٹھہری میں کم نصیب جو قسمت سے اپنی لڑ نہ سکا ترے سفر کو بہت تابناک کر نہ سکا تمہاری خواہشوں کے خواب ناک دامن کو نئے زمانے کی رنگینیوں سے بھر نہ سکا مگر میں آج بھی یہ اعتراف کرتا ہوں تمہی تھی میری محبت تمہی ہو جان ...

مزید پڑھیے

حسن منظر میں نہیں ہے

حسن منظر میں کہاں ہے یہ ہمارے من کی آنکھوں میں کہیں ہے من کی آنکھیں کھل سکیں جو تو ہر اک منظر حسیں ہے حسن منظر میں نہیں ہے

مزید پڑھیے

ستارے

یہ ہماری قسمت کے جتنے بھی ستارے ہیں قدرت الٰہی نے بے مراد رستوں پر باندھ کر اتارے ہیں جن کی اپنی منزل ہی بے نشان رستے ہوں روشنی جو غیروں سے مستعار لیتے ہوں کیسے میں یقیں کر لوں میری منزلوں کے وہ معتبر اشارے ہیں یہ ہماری قسمت کے جتنے بھی ستارے ہیں صرف استعارے ہیں

مزید پڑھیے

آکٹوپس

مذہب کا آکٹوپس پکڑ لیتا ہے فرد کو اس کے بازو پھیل جاتے ہیں ہر مسام ہر عضو پر یہ حاوی ہو جاتا ہے ہر ہر سانس پر عفریت بن کر نگل لیتا ہے جذبات کے ریشمی تھانوں کو مسل کر رکھ دیتا ہے دل سوختہ کی ہر خواہش کو سلیں رکھ دیتا ہے دل نازک پر اوپر سے نیچے تک بے شمار بے حساب جو مچلے شکار اس کا اور ...

مزید پڑھیے

عورت

تم مری آواز دبا نہیں سکتے مرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتے نہیں رکھ سکتے مجھے پابند سلاسل تم مری آواز دبا نہیں سکو گے ناخن شوق سے روزانہ کریدونگی میں ایک نئی دیوار تاکتا پرواز سے مسخر کروں گی نئے جہان پر کاٹ کر مرے پنجرے میں مقید نہیں کر سکتے تم خواب نوچ کر مری آنکھیں تسخیر نہیں ...

مزید پڑھیے

باندیاں

میرے مالک کیا ہم باندیاں ہیں جو آگ میں جلا کر مار دی جائیں ہم وہ جوانیاں ہیں محبت کے نام پر جو مسل دی جائیں ہم وہ کلیاں ہیں ہوس کا نشانہ بنا کر جن کے پر نوچ لئے جائیں ہم وہ تتلیاں ہیں جو مصلحت کے نام پر قربان کر دی جائیں ہم وہ بیٹیاں ہیں جو شرعی جائیداد سے محروم کر دی جائیں ہم وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 383 سے 960