شاعری

ایک کلرک لڑکی

جسم ہے تیرا رنگ کی دنیا روپ ہے تیرا نور کی وادی تو بھی مجبور ہے کلرکی پر اے کلرکوں کے دل کی شہزادی تیری آنکھیں سرور کا مندر تیری زلفیں بہار کا مسکن اور ٹائپ کی گت پہ ناچتا ہے تیرا دوشیزہ نغمئ جوبن تیرے ان عارضوں کے پھولوں پر گلستاں کا گمان ہوتا ہے اور تیرا غرور زیبائی فائلوں سے ...

مزید پڑھیے

اور میں بنچ پہ اکیلی بیٹھی ہوں

بارشوں کا ہاتھ تھامے آج میں نے بہت دیر تک واک کی بنچ پہ بیٹھ کر دھیرے دھیرے لمبے گہرے سانس لیے اور پھر کافی دیر تک آنکھیں تمہارے چہرے پہ جمائے بیٹھی رہی بنا کسی وجہ کے میں ہنسی اور دیر تک ہنستی رہی تنہائی کا کینوس بہت وسیع ہے مگر ایک مکمل خاموشی اسے سیراب کرنے کو کافی ہے گفتگو کی ...

مزید پڑھیے

سہارا ماں ہے

دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے اس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ...

مزید پڑھیے

میں

اس بدن کے ملبے کے اندر اک دل کی اجڑی تختی ہے جس میں سناٹے بولتے ہیں یادوں کے در جو کھولتے ہیں کچھ خوابوں کے ذرے ہیں جو اس لہو میں خلیوں کی صورت جب رقص کریں تو بولتے ہیں کچھ بکھرے آس کے ٹکڑے ہیں جو من میں خوشبو گھولتے ہیں اک کرب ہی میرے اندر ہے اک دکھ ہی مرا مقدر ہے ان خوابوں کے جو ...

مزید پڑھیے

عید حیران ہے

عید مہندی کا خوشیوں کا رنگوں کا خوشبو کا اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک میں بسی آرزوؤں کا اک نام ہے عید انعام ہے عید امید ہے عید تجدید ہے عید جیسے کوئی روشنی کی کرن ایک وعدے کہانی فسانے کی یا ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے دکھ کی تمہید ہے عید امید ہے ایک گھر میں تو خوشیوں کا سامان ...

مزید پڑھیے

میں تھک گئی ہوں

وحشت کی اماوس میں تمہاری یاد چھپی ہے اور تمہاری یاد میں بہت سارے خوف بالکل اچانک بغیر کسی وجہ کے سینے میں دھڑدھڑاتے دل کو ساکت و جامد کرنے والے خوف یہ وہ ایسے ویسے اچھے برے مارنے والے توڑنے والے خوف بھیانک قسم کے خوف عجیب قسم کے خوف کینچلی بدلنے والے خوف اور پتا نہیں کیسے کیسے ...

مزید پڑھیے

دفنانے میں پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے

میرے سامنے تمہارا جنازہ رکھا ہے لوگ کہہ رہے ہیں تم مر گئے ہو کسی نے میرے سر پہ دوپٹہ ڈالا ہے سفید براق بے داغ میری ساری چوڑیاں کسی نے کچ کچ کر کے توڑ دی ہیں پتا نہیں کون ہے جو بار بار کہہ رہا ہے رو لو تھوڑا سا رو لو دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا مجھے رونے کے بجائے ہنسی آئے چلی جا رہی ...

مزید پڑھیے

کیا فرق پڑتا ہے

تمہارا دیس کون سا ہے یا اگر ہماری تختیوں پہ جدائی لکھی ہو اور دوری کبھی طے نہ کی جا سکتی ہو کیا فرق پڑتا ہے اگر کہیں کسی زمانے کسی مقام کسی حد پر میں اور تم ایک دوسرے کے لئے صرف ایک مدھم ہوتا ہوا نقطہ ہوں اور تمام سفر بے معنی ہو میں جانتی ہوں کہ نئی زمین تمہیں راس آ گئی ہے تمہارے ...

مزید پڑھیے

آپ کون

عجیب سی یہ بات ہے کہ جو مرا یقین تھا جو تپتے راستوں میں میرے واسطے گلوں کی سر زمین تھا کہ جو مرا گمان تھا جو ابر تھا مرے لیے جو میرا آسمان تھا جو میری ابتدا تھا اور مرا جو اختتام تھا جو میری صبح زندگی جو میرا آسمان تھا ازل سے جو ابد تلک وفا کا سائبان تھا بہت ہی مہربان تھا جو مرکز ...

مزید پڑھیے

محبت اک ضرورت ہے

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ رشتے گر ضرورت سے جڑے ہوں تو وہ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں ضرورت پوری ہونے پر ضرورت مند اک دوجے سے اکثر روٹھ جاتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دنیا ضرورت ہے یہاں پر سانس لینا بات کرنا ساتھ چلنا اور دھڑکنا ہنستے ہنستے ایک دم خاموش ہونا اور پھر چپکے سے رونا یاد رکھنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 381 سے 960