ایک کلرک لڑکی
جسم ہے تیرا رنگ کی دنیا روپ ہے تیرا نور کی وادی تو بھی مجبور ہے کلرکی پر اے کلرکوں کے دل کی شہزادی تیری آنکھیں سرور کا مندر تیری زلفیں بہار کا مسکن اور ٹائپ کی گت پہ ناچتا ہے تیرا دوشیزہ نغمئ جوبن تیرے ان عارضوں کے پھولوں پر گلستاں کا گمان ہوتا ہے اور تیرا غرور زیبائی فائلوں سے ...