شاعری

فرقہ پرستی کا چیلنج

طاقت ہو کسی میں تو مٹائے مری ہستی ڈائن ہے مرا نام لقب فرقہ پرستی میں نے بڑی چالاکی سے اک کام کیا ہے پہلے ہی محبت کا گلا گھونٹ دیا ہے میں فتنے اٹھا دیتی ہوں ہر اٹھتے قدم سے اس دیش کے ٹکڑے بھی ہوئے میرے ہی دم سے سرمایہ پرستوں نے جنم مجھ کو دیا ہے مذہب کے تعصب نے مجھے گود لیا ہے ہے ملک ...

مزید پڑھیے

پندرہ اگست

گھٹا ہے گھنگھور رات کالی فضا میں بجلی چمک رہی ہے ملن کا سینہ ابھار پر ہے برہ کی چھاتی دھڑک رہی ہے ہوا جو مستی میں چور ہو کر قدم قدم پر بہک رہی ہے کمر ہے ہر شاخ گل کی نازک ٹھہر ٹھہر کر لچک رہی ہے ہوا پہ چلتا ہے حکم ان کا گھٹائیں بھرتی ہیں ان کا پانی انہیں سے سرخی بہار کی ہے انہیں سے ...

مزید پڑھیے

اس وقت غزل کی بات نہ کر

سنتان ہنسے تو کیسے ہنسے اس وقت ہے ماتا خطرے میں سنسار کے پربت کا راجہ ہے اپنا ہمالہ خطرے میں ہے سامنا کتنے خطروں کا ہے دیش کی سیما خطرے میں اے دوست وطن سے گھات نہ کر اس وقت غزل کی بات نہ کر مہندی ہوئی پیلی کتنوں کی سندور لٹے ہیں کتنوں کے ہیں چوڑیاں ٹھنڈی کتنوں کی ارمان جلے ہیں ...

مزید پڑھیے

چھبیس جنوری

اے شانتی اہنسا کی اڑتی ہوئی پری آ تو بھی آ کہ آ گئی چھبیس جنوری سر پر بسنت گھاس زمیں پر ہری ہری پھولوں سے ڈالی ڈالی چمن کی بھری بھری آئی نہ تو تو سب کی سنوں گا کھری کھری تجھ بن اداس ہے مری کھیتی ہری بھری آ جلد آ کہ آ گئی چھبیس جنوری گھونگھٹ الٹ رہی ہے چمن کی کلی کلی شاخیں تو ٹیڑھی ...

مزید پڑھیے

ہولی جوانی کی بولی میں

اگر آج بھی بولی ٹھولی نہ ہوگی تو ہولی ٹھکانے کی ہولی نہ ہوگی بڑی گالیاں دے گا پھاگن کا موسم اگر آج ٹھٹھا ٹھٹھولی نہ ہوگی وہ کھولیں گے آوارہ موسم کے جھونکے جو کھڑکی شرافت نے کھولی نہ ہوگی ہے ہولی کا دن کم سے کم دوپہر تک کسی کے ٹھکانے کی بولی نہ ہوگی ابھی سے نہ چکر لگا مست ...

مزید پڑھیے

دیپاولی

مری سانسوں کو گیت اور آتما کو ساز دیتی ہے یہ دیوالی ہے سب کو جینے کا انداز دیتی ہے ہردے کے دوار پر رہ رہ کے دیتا ہے کوئی دستک برابر زندگی آواز پر آواز دیتی ہے سمٹتا ہے اندھیرا پاؤں پھیلاتی ہے دیوالی ہنسائے جاتی ہے رجنی ہنسے جاتی ہے دیوالی قطاریں دیکھتا ہوں چلتے پھرتے ماہ پاروں ...

مزید پڑھیے

عید ملن

بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہے ہر سمت عید جشن محبت منائے ہے انسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہے موسم ہر اک امید کو جھولا جھلائے ہے بارش میں کھیت ایسی طرح سے نہائے ہے رونق ہر اک کسان کے چہرے پہ آئے ہے ہم سب کو اپنے گھیرے میں لینے کے واسطے چاروں طرف سے گھر کے گھٹا آج آئے ہے حیوانیت ...

مزید پڑھیے

گنگا کے کنارے

تا حد نظر جب نظروں میں جنت کے نظارے ہوتے تھے باتوں میں کنائے ہوتے تھے نظروں میں اشارے ہوتے تھے ایسے میں جو آنسو گرتے تھے گرتے ہی ستارے ہوتے تھے جب چاندنی راتوں میں ہم تم گنگا کے کنارے ہوتے تھے وہ رات کا سندر سناٹا چپ سادھے ہوئے جیسے منزل گنگا کی دھڑکتی چھاتی پر ارماں کے دیے ...

مزید پڑھیے

ہولی

کہیں پڑے نہ محبت کی مار ہولی میں ادا سے پریم کرو دل سے پیار ہولی میں گلے میں ڈال دو بانہوں کا ہار ہولی میں اتارو ایک برس کا خمار ہولی میں ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں لگا کے آگ بڑھی آگے رات کی جوگن نئے لباس میں آئی ہے صبح کی مالن نظر نظر ہے کنواری ادا ادا کمسن ہیں رنگ رنگ سے سب ...

مزید پڑھیے

دیوالی اور دیوالی ملن

گھر کی قسمت جگی گھر میں آئے سجن ایسے مہکے بدن جیسے چندن کا بن آج دھرتی پہ ہے سورگ کا بانکپن اپسرائیں نہ کیوں گائیں منگلاچرن زندگی سے ہے حیران یمراج بھی آج ہر دیپ اندھیرے پہ ہے خندہ زن ان کے قدموں سے پھول اور پھلواریاں آگمن ان کا مدھوماس کا آگمن اس کو سب کچھ ملا جس کو وہ مل گئے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 364 سے 960