چلتی پھرتی اک دیوار
چلتی پھرتی اک دیوار دیکھی عجائب گھر میں نثارؔ ہلتی تھی وہ ادھر ادھر چلتی تھی وہ کھمبوں پر چار جڑے تھے اس میں کھمبے موٹے موٹے لمبے سے دیوار سے تھا گنبد جو لگا پائپ تھا اس سے جڑا ہوا ادھر ادھر وہ ہلتا تھا موٹا موٹا بھدا سا بھالا لے کر بیٹھے تھے میاں مہاوت اکڑے ہوئے گنبد میں تھے ...