شاعری

چلتی پھرتی اک دیوار

چلتی پھرتی اک دیوار دیکھی عجائب گھر میں نثارؔ ہلتی تھی وہ ادھر ادھر چلتی تھی وہ کھمبوں پر چار جڑے تھے اس میں کھمبے موٹے موٹے لمبے سے دیوار سے تھا گنبد جو لگا پائپ تھا اس سے جڑا ہوا ادھر ادھر وہ ہلتا تھا موٹا موٹا بھدا سا بھالا لے کر بیٹھے تھے میاں مہاوت اکڑے ہوئے گنبد میں تھے ...

مزید پڑھیے

ہماری کتاب

جو بھی کتابیں میں نے پڑھی ہیں ایک زباں ہو کر بولی ہیں ہم سب اچھے دوست تمہارے ہم سب سچے دوست تمہارے قصے کہانی تمہیں سناتے باتیں کرتے دل بہلاتے دنیا بھر کی سیر کراتے گھر بیٹھے ہم تمہیں گھماتے بڑے بڑوں سے تمہیں ملاتے ان کی باتیں تمہیں سناتے آسمان کی سیر کراتے چندا ماما سے ...

مزید پڑھیے

جوش گل

وہ موسم ہے کہ خوبان چمن بنتے سنورتے ہیں یہ عالم ہے کہ جیسے رنگ تصویروں میں بھرتے ہیں ہے خوابیدہ جو سبزہ آئنہ خانے میں شبنم کے نفس دزدیدہ باد صبح کے جھونکے گزرتے ہیں پر طوطی پہ ہوتا ہے دم طاؤس کا دھوکا ہوا سے اڑ کے برگ گل جو سبزہ پر بکھرتے ہیں ملا ہے سبزہ نوخیز کو کیا رنگ زنگاری ہوا ...

مزید پڑھیے

شرکت محفل

تو ہمیشہ رہتا ہے چیں بر جبیں افسردہ دل پھر کسی کی بزم عشرت میں نہ جا بہر خدا خود ہی اپنی جان سے بے زار تو انصاف کر تجھ سے اہل بزم پھر کس طرح خوش ہوں گے بھلا چاہیئے اس طرح جانا محفل احباب میں باغ میں جس طرح خوش خوش آتی ہے باد صبا خیر مقدم کا اشارہ جھوم کر کرتی ہے شاخ اور چٹک کر دیتی ...

مزید پڑھیے

نزول وحی

قدم چالیسویں منزل میں اس یوسف نے جب رکھا تو پہنچا کاروان وحی آواز جرس ہو کر کہ دل تو جاگ اٹھا آنکھوں میں غفلت نیند کی چھائی ہوا سینہ میں اس سے موجزن اک لجّہ عرفاں کہ تاب اس جزر و مد کی فطرت انساں نہیں لائی بڑھا جوش اس کا بڑھ کر ساحل افلاک تک پہونچا اٹھی موج اس سے اٹھ کر عرش کی زنجیر ...

مزید پڑھیے

گور غریباں

وداع روز روشن ہے گجر شام غریباں کا چرا گاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں کے قدم گھر کی طرف کس شوق سے اٹھتا ہے دہقاں کا یہ ویرانہ ہے میں ہوں اور طائر آشیانوں کے

مزید پڑھیے

ساقی نامہ

نہیں یہ عہد اور ہے ساقی اہل یورپ کا دور ہے ساقی کی ہے کوشش انہوں نے خاطر خواہ پائی ہے مدتوں میں ہند کی راہ کر کے زحمت جو آئے اتنی دور محض ترویج بادہ تھی منظور جو مسلماں ہیں امت انگریز مے کشی سے انہیں نہیں پرہیز بادہ خواری کا شغل گھر گھر ہے اور تاڑی تو شیر مادر ہے پہلے پاسی چمار ...

مزید پڑھیے

بجھ گئے نیل گگن

اب کہیں کوئی نہیں جل گئے سارے فرشتوں کے بدن بجھ گئے نیل گگن ٹوٹتا چاند بکھرتا سورج کوئی نیکی نہ بدی اب کہیں کوئی نہیں آگ کے شعلے بڑھے آسمانوں کا خدا ڈر کے زمیں پر اترا چار چھ گام چلا ٹوٹ گیا آدمی اپنی ہی دیواروں سے پتھر لے کر پھر گپھاؤں کی طرف لوٹ گیا اب کہیں کوئی نہیں

مزید پڑھیے

نیا سفر

آسماں لوہا دشائیں پتھر سرنگوں سارے کھجوروں کے درخت کوئی حرکت نہ صدا بجھ گئی بوڑھی پہاڑی پہ چمکتی ہوئی آگ! تھم گئے پاک ستاروں سے برستے ہوئے راگ پھر سے کاندھوں پہ جمالو سر کو پھر سے جسموں میں لگا لو ٹانگیں ڈھونڈ لو کھوئی ہوئی آنکھوں کو اب کسی پر نہیں اترے گا صحیفہ کوئی

مزید پڑھیے

فقط چند لمحے

بہت دیر ہے بس کے آنے میں آؤ کہیں پاس کی لان پر بیٹھ جائیں چٹختا ہے میری بھی رگ رگ میں سورج بہت دیر سے تم بھی چپ چپ کھڑی ہو نہ میں تم سے واقف نہ تم مجھ سے واقف نئی ساری باتیں نئے سارے قصے چمکتے ہوئے لفظ چمکتے لہجے فقط چند گھڑیاں فقط چند لمحے نہ میں اپنے دکھ درد کی بات چھیڑوں نہ تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 350 سے 960