نقابیں
نیلی پیلی ہری گلابی میں نے سب رنگین نقابیں اپنی جیبوں میں بھر لی ہیں اب میرا چہرہ ننگا ہے بالکل ننگا اب! میرے ساتھی ہی مجھ پر پگ پگ پتھر پھینک رہے ہیں شاید وہ میرے چہرے میں اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں
نیلی پیلی ہری گلابی میں نے سب رنگین نقابیں اپنی جیبوں میں بھر لی ہیں اب میرا چہرہ ننگا ہے بالکل ننگا اب! میرے ساتھی ہی مجھ پر پگ پگ پتھر پھینک رہے ہیں شاید وہ میرے چہرے میں اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں
وہ طوائف کئی مردوں کو پہچانتی ہے شاید اسی لیے دنیا کو زیادہ جانتی ہے اس کے کمرے میں ہر مذہب کے بھگوان کی ایک ایک تصویر لٹکی ہے یہ تصویریں لیڈروں کی تقریروں کی طرح نمائشی نہیں اس کا دروازہ رات گئے تک ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر مذہب کے آدمی کے لیے کھلا رہتا ہے خدا جانے اس کے کمرے کی سی ...
دیوتا ہے کوئی ہم میں نہ فرشتہ کوئی چھو کے مت دیکھنا ہر رنگ اتر جاتا ہے ملنے جلنے کا سلیقہ ہے ضروری ورنہ آدمی چند ملاقاتوں میں مر جاتا ہے
جامن کی اک شاخ پہ بیٹھی اک چڑیا ہرے ہرے پتوں میں چھپ کر گاتی ہے ننھے ننھے تیر چلائے جاتی ہے اور پھر اپنے آپ ہی کچھ اکتائی سی چوں چوں کرتی پر تولے اڑ جاتی ہے دھندلا دھندلا داغ سا بنتی جاتی ہے میں اپنے آنگن میں کھویا کھویا سا آہستہ آہستہ گھلتا جاتا ہوں کسی پرندے کے پر سا لہراتا ...
پہلے وہ رنگ تھی پھر روپ بنی روپ سے جسم میں تبدیل ہوئی اور پھر جسم سے بستر بن کر گھر کے کونے میں لگی رہتی ہے جس کو کمرے میں گھٹا سناٹا وقت بے وقت اٹھا لیتا ہے کھول لیتا ہے ،بچھا لیتا ہے
یوں تو ہر رشتہ کا انجام یہی ہوتا ہے پھول کھلتا ہے مہکتا ہے بکھر جاتا ہے تم سے ویسے تو نہیں کوئی شکایت لیکن شاخ ہو سبز تو حساس فضا ہوتی ہے ہر کلی زخم کی صورت ہی جدا ہوتی ہے تم نے بیکار ہی موسم کو ستایا ورنہ پھول جب کھل کے مہک جاتا ہے خود بہ خود شاخ سے گر جاتا ہے
بند کمرا چھٹپٹاتا سا اندھیرا اور دیواروں سے ٹکراتا ہوا میں!! منتظر ہوں مدتوں سے اپنی پیدائش کے دن کا اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا ہوں جب سے میں!! خود اپنے پیٹ کے اندر پڑا ہوں
آؤ کہیں سے تھوڑی سی مٹی بھر لائیں مٹی کو بادل میں گوندھیں نئے نئے آکار بنائیں کسی کے سر پہ چوٹیا رکھ دیں ماتھے اوپر تلک سجائیں کسی کے چھوٹے سے چہرے پر موٹی سی داڑھی پھیلائیں کچھ دن ان سے جی بہلائیں اور یہ جب میلے ہو جائیں داڑھی چوٹی تلک سبھی کو توڑ پھوڑ کے گڈمڈ کر دیں ملی جلی یہ ...
سونی سونی تھی فضا میں نے یوں ہی اس کے بالوں میں گندھی خاموشیوں کو چھو لیا وہ مڑی تھوڑا ہنسی میں بھی ہنسا پھر ہمارے ساتھ ندیاں وادیاں کہسار بادل پھول کونپل شہر جنگل سب کے سب ہنسنے لگے اک محلے میں کسی گھر کے کسی کونے کی چھوٹی سی ہنسی نے دور تک پھیلی ہوئی دنیا کو روشن کر دیا ہے زندگی ...
ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا بدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگا بڑھا کے ہاتھ ہر اک روشنی کو گل کر دو ہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دو جو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دو نہ کوئی پاؤں کی آہٹ نہ سانسوں کی آواز ڈرا ہوا ہے وہ کچھ اور بھی نہ ...