شاعری

ترقی

زندگی میں اندھیرا ہر شام کے بعد سویرا لوگ کہتے ہیں میری زندگی کی شام بھی کبھی نہ کبھی دھیرے دھیرے سویرے تک ضرور پہنچے گی مگر سوچتا ہوں شام سے صبح کے بیچ مجھے نیند نہ آ جائے

مزید پڑھیے

اجڑا سا جزیرہ

زخم جیسے کہ زباں رکھتے ہیں رات بھر حال سناتے ہیں مجھے جاگتے رہتے ہیں سارے مرے کمرے کے چراغ درد میرا بانٹتے ہیں یک بہ یک دل میں اتر آتا ہے کوئی اجڑا سا جزیرہ اور پھر سسکیاں شور مچاتی ہیں ہواؤں کی طرح اور بڑھتی ہے تری یاد کی شدت مجھ میں غم کا ادراک مرے ہوش بھلا دیتا ہے کچھ بگولے مرے ...

مزید پڑھیے

گڑیا

کھلونا تو نہیں ہوں میں نا مٹی کا کوئی بت ہوں کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں ہوگی مجھے تکلیف کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو چیخیں بھی نہ نکلیں گی بنا سوچے بنا دیکھے مری شادی کسی گڈے سے کر دو گے مرے سر میں کسی بھی نام کا سندور بھر دو گے مجھے مجھ سے بنا پوچھے مجھی سے دور کر دو گے سنو یہ جان لو تم ...

مزید پڑھیے

لا علمی

مرے کمرے کی الماری بھری ہے جن کتابوں سے میں ان کو روز پڑھتی ہوں میں لفظوں میں چھپی ترغیب کے لہجے سمجھتی ہوں کھبی کچھ لائینوں کے درمیاں موجود مطلب کو ورق پہ لکھ کے اپنے پاس یوں محفوظ کرتی ہوں کہ جیسے ماہیت لفظوں کی ساری جان لی میں نے ذرا سا غور کرنے پر حقیقت یوں کھلی مجھ پر کہ جو ...

مزید پڑھیے

خودی کا راز

میری ہر فکر میں طوفان کی طغیانی ہے اور مرے شوق میں جذبوں کی فراوانی ہے یوں جنوں بہتا ہے دریا کی روانی جیسے اور مری سوچ میں پلتی ہے کہانی جیسے میں نے تو ہمت مردان خدا سیکھی ہے میں نے ٹوٹے ہوئے لہجوں کی دعا سیکھی ہے میں نے ہر رنگ کی خوشبو کی ادا سیکھی ہے میں نے ہر ظاہر و باطل کا ...

مزید پڑھیے

سپیرن

میں کہ تجھ سے بڑی سپیرن ہوں سانپ پالے آستینوں میں آستینوں میں

مزید پڑھیے

بیداری

نیند کمرے میں ٹہل رہی ہے رات کی بے شمار آنکھیں مجھ پر گڑیں ہیں میں بے سدھ ایک کونے میں پڑی ہوں رات کی گہری سیاہی مجھ پر مسلط ہونے لگی ہے میری ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والی نیلی چاندنی دل سے دیوانوں کی طرح لپٹ رہی ہے ایسے میں ایک غیر مبہم وحشت مجھ پر طاری ہوتی ہے تنہائی چیخ چیخ ...

مزید پڑھیے

ہوس

بظاہر خوبصورت ہیں تکلم کا طریقہ بھی بہت عمدہ سا ان کا بدن پر ڈال کر پوشاک مہنگے دام والی وہ سمجھتے ہیں نگاہوں کی ہوس بھی ڈھانپ لی ہم نے مگر وہ جانتے کب ہیں ہوس کا جسم ننگا ہے

مزید پڑھیے

چیونٹیاں

سرمئی رات میں اپنے خوابوں کو دیوار پر مار کر پہلے توڑا پھر اس کی سبھی کرچیاں اپنے دامن میں بھر کے سمندر کی موجوں میں ڈال آئے ہم تھوڑی ہلچل ہوئی دائرے دائرے سے بکھرنے لگے نقش چھوڑے بنا خوشبوؤں کی طرح خواہشیں ڈوب کر ایسے مرتیں رہیں جیسے مرتی ہیں پیروں تلے چیونٹیاں

مزید پڑھیے
صفحہ 347 سے 960