چنگاریوں کا رقص
بجھانا بھول جاتی ہوں میں یادوں کے چراغوں کو میں کھڑکی کھول دیتی ہوں کھبی جب اپنے خوابوں کی ہوائیں سرسراتی ہیں تو لو بھی تھرتھراتی ہے چراغوں کی مرے کمرے میں جو چنگاریاں سی رقص کرتیں ہیں مری سوچوں کی تصویروں کو پیہم عکس کرتیں ہیں
بجھانا بھول جاتی ہوں میں یادوں کے چراغوں کو میں کھڑکی کھول دیتی ہوں کھبی جب اپنے خوابوں کی ہوائیں سرسراتی ہیں تو لو بھی تھرتھراتی ہے چراغوں کی مرے کمرے میں جو چنگاریاں سی رقص کرتیں ہیں مری سوچوں کی تصویروں کو پیہم عکس کرتیں ہیں
میں جوہر پر مقدم ہوں مرے پاؤں کی بیڑی یہ زمانہ بن نہیں سکتا نہ ہی محدود ہوں اور ناگہانی بھی نہیں ہوں میں مقدر تھا مرا ماضی مگر میں حال، مستقبل کا سودا سر میں رکھتی ہوں میں ہی تو مرکزی کردار ہوں اپنی کہانی کا اساسی کچھ نہیں ہے منطقی نا جوہری کچھ ہے میں خود میں ڈوب کر تشکیل نو کرتی ...
وہ بھی دل ہے کہ پتھر میں خدا ڈھونڈھتا ہے یہ بھی کافر ہے کہ پتھر ہی جدا ڈھونڈھتا ہے
ایک لمحہ محیط عالم ہے دسترس میں کئی زمانے ہیں سوچ کا اک گھنا سا جنگل ہے اور اس میں فقط خزانے ہیں ان خیالوں میں قید ہوں کب سے یہ رہائی کے کچھ بہانے ہیں
مجھے اچھا نہیں لگتا کھڑا خاموش سا دریا کوئی ہلچل ہو طوفاں ہو کوئی تو بادباں ٹوٹے کوئی تو ناخدا ایسا ہو جو باد مخالف کو پلٹ دے زور بازو سے نا کشتی ڈگمگائے اس کی لہروں کے تلاطم پر نا کشتی ڈولتی جائے ہوا کے رخ پہ ساحل پر بہت گرداب بھی ہوں گے بہت بھونچال آئیں گے ہو ایسا نا خدا کہ جو ...
مرد ہر اس عورت سے آدھی محبت کرنے لگتا ہے جو اس کی پوری بات سنتی ہے
میں کہلاؤں سنگ تراش وہ جو ٹھہرا پتھر دل
مری پرواز اونچی ہے پہاڑوں پر چٹانوں پر کہیں تو آسمانوں پر فضائے بیکراں کی وسعتوں میں ہے مری منزل بہت ہی ماورا ہیں اس جہاں سے ذہن کے ہالے زمانوں پر لگا رکھے ہیں میں نے سوچ کے تالے حدود لا مکاں بھی گونجتی ہے میرے نالوں سے کہ میں نے پا لیا ادراک کو سارے حوالوں سے
تتلی کے پروں سے رنگ چرانے بہتے پانی پر تصویریں بنانے پتھر کی کوکھ سے مجسمے تراشنے گمان سے اونچی دیواریں اٹھانے اور شاعری میں غرق ہو جانے سے تم عظیم تخلیق کار کہلاتے ہو ذرا دیکھو عظیم مصور پکاسو تصویروں میں رنگ ایسے بھرتا جیسے روح پھونک رہا ہو بچارہ نا آسودگی کا مارا تصویریں ...
کفن اس کی رداؤں کا تعفن ہے صداؤں کا کہ ہنگامہ سا برپا ہے خموشی کی اداؤں کا سلگتی ہے سسکتی ہے قیامت سی گزرتی ہے جو لمحات جدائی کو کسی اجلی سی چادر میں اٹھاتے ہیں زمیں میں جیسے مردے کو دبا کر لوٹ آتے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں یہ قبریں ہجر کی نیلی ہمیشہ گیلی رہتی ہیں