شاعری

گمشدہ روایتیں

صاف و شفاف جھیلوں کی وہ مچھلیاں وہ تڑپتی ہوئی مچھلیاں خوبصورت تھیں اور ایک دن وہ انہیں مار کر کھا گئے صاف و شفاف جھیلوں میں اب خون کی دھار ہے

مزید پڑھیے

بھوت

ہم وہاں پہ بیٹھے تھے بعد میں ہوا معلوم میں وہاں اکیلا تھا بھوت میں نے دیکھے تھے خوف سے میں لرزا تھا اور آج تک تب سے دل مرا دھڑکتا ہے جب بھی کوئی دیتا ہے دل کے پردے پر دستک مجھ کو ایسا لگتا ہے یہ ہوا کا جھونکا تھا ہم تو جانے والے تھے ایک ساتھ ہی لیکن جب وہاں پہ پہنچے ہم میں وہاں اکیلا ...

مزید پڑھیے

ادھورا عنصر

وہ سالمیت تھی ایک وحدت وہ کاملیت کسی طرح ایک غیر مضبوط ثانیے میں بکھر گئی تو الگ ہوا اس کا ایک حصہ! وہ ایک عنصر کا ایک حصہ جھٹک کے دامن خلا کے گہرے عمیق لا وقت فاصلوں کو عبور کرتا ہزاروں صدیوں کی دوریوں پر چلا گیا ہے....! کوئی نہیں جانتا کے کیسے وہ نامکمل شکستہ عنصر ادھورے پن کی ...

مزید پڑھیے

سیڑھیاں

دوریوں کی دھند میں گم ہو چکا ہے کارواں اب اٹھ رہا ہے دور تک کالا دھواں جو مڑ کے اس کو تک رہا ہے گھپ اندھیرے غار کی تہ میں اکیلی ناتواں اک زندگی پنجوں کے بل پتھر کی اونچی سیڑھیوں پر ہانپتی کوشش کی بیساکھی کو تھامے رینگتی ہے! پانیوں کی آگ میں جھلسی ہوئی نظریں ٹکی ہیں دور اونچائی پہ ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں؟

جب بھی دل بھر آیا آنکھیں چھلکیں تنہائی کے اک گوشے میں اس کے کاندھے پہ سر رکھ کر اس سے دل کی باتیں کہہ کر جی کچھ تو ہلکا ہوتا تھا اس کی دل جوئی کی انگلی میری پلکوں سے رخشاں گوہر چن چن کر اپنی پلکوں کے دھاگے میں پرو کے رکھ لیتی تھی اک دن شام کے گہرے سائے شجر کے زردی مائل آنسو قطرہ قطرہ ...

مزید پڑھیے

شکستہ سپر

مہرباں نازک رداؤں کی تہوں میں نرم باہوں کی پناہوں میں ہے رقصاں یہ زمیں وہ اک سپر بن کر جھلسنے سے بچا لیتی ہیں اس کو نغمہ گر صیقل فضائیں سبز ریشم کی قبا پہنے زمیں ہاتھوں میں تھامے نسترن نرگس سمن نازک تہوں میں زندگی ہے کس قدر محفوظ لیکن....... لحظہ لحظہ ہر پرت معدوم ہوتی جا رہی ...

مزید پڑھیے

چمگادڑ

میں نے آج رات کے آخری پہر خواب دیکھا ہے کہ میری کھوپڑی کے اندر بہت سارے چمگادڑ پھڑپھڑا رہے ہیں

مزید پڑھیے

روح اذیت خوردہ

زخموں کے انبار، در و دیوار بھی سونے لگتے ہیں خوشیوں کے دریا میں اتنی چوٹ لگی کہ اب اس میں چلتے رہنا دشوار ہوا سڑکوں پر چلتے پھرتے شاداب سے چہرے سوکھ گئے وہ موسم جس کو آنا تھا، وہ آ بھی گیا اور چھا بھی گیا اشجار کے نیلے گوشوں سے اب زہر سا رستا رہتا ہے گل زار خزاں کے شعلوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

شناخت

ہر ایک قطرہ سمندروں میں سما گیا ہے وجود اپنا گنوا چکا ہے اسی یقیں پر کہ اب وہ قطرے سے اک سمندر کی بے کرانی میں ڈھل گیا ہے مگر یہاں ہے بہت اکیلا جو ایک قطرہ وجود اپنا سنبھال کر مسکرا رہا ہے کہ اس کے اندر کئی سمندر سما گئے ہیں

مزید پڑھیے

برف کی مورتی

برف کی آندھیاں چیختی دہاڑتی ایک ہیجان میں شہر جاں کی فصیلوں پہ یوں حملہ آور ہوئیں اک دھماکہ ہوا سب شجر گر گئے ہر مکاں ڈھے گیا در دریچوں کے ٹکڑے ہوئے جا بجا آب جو منجمد ہو گئی ہر گلی یخ سفیدی میں یوں چھپ گئی برف کی ریت کا ڈھیر سارا نگر ہو گیا اور اس سے تراشی گئی اک چمکتی ہوئی برف کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 325 سے 960