شاعری

جلتی رات سلگتے سائے

قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے لہو لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیات میرے زانو پہ رکھ کے سر اپنا رو رہی ہے اداس تنہائی کتنا گہرا ہے درد کا رشتہ کتنا تازہ ہے زخم رسوائی حسرتوں کے دریدہ دامن میں جانے کب سے چھپائے بیٹھا ہوں دل کی محرومیوں کا سرمایہ ٹوٹے پھوٹے شراب کے ساغر موم بتی کے ادھ جلے ٹکڑے کچھ ...

مزید پڑھیے

آنکھ مچولی

دل کے دروازے پر کس نے دستک دی ہے؟ کوئی نہیں ہے! اندر باہر اتنی گہری اتنی بوجھل خاموشی ہے جیسے فضا کا دم گھٹ جائے لیکن دیکھو دور کہیں سے گورے ننگے اور کنوارے دو پیروں میں اجلی اجلی چاندی کی زنجیریں پہنے زینہ چڑھتی آئی اچانک چھم چھم کرتی ایک پرانی یاد کہ جس سے سہم گئے سوچوں کے ...

مزید پڑھیے

ماورا

کسی تصویر میں رنگوں سے ابھارے نہ گئے تیرے چہرے کے دل آویز گلابی ہالے میرے الفاظ کا ترشا ہوا سنگ مرمر کون سے بت میں ترے جسم جواں کو ڈھالے تیری نوخیز جوانی کے کنوارے موتی جگمگاتے رہے وجدان کے آئینے میں بن گئے رشک چمن لالہ و نرگس کی طرح داغ اور زخم تھے جتنے بھی مرے سینے میں تیری ...

مزید پڑھیے

گرل فرینڈ

سرمئی ریت کی پگڈنڈی پر سنگ مرمر کی چٹانوں کا دل آویز شباب شام کے شعلہ نفس رنگ میں تحلیل ہوا ہاتھ میں ہاتھ لئے بڑھتے رہے دو سائے اور خاموش چناروں کی سلگتی آنکھیں محو دیدار رہیں دو جواں خواب، کھلے جسم، برہنہ جامے ایک ہی لے میں دھڑکتے ہوئے دو ہنگامے جام تھے ہاتھ میں دونوں کے مگر ...

مزید پڑھیے

سورج کا المیہ

مرے پیچھے بہت پیچھے مرے ماضی کے لمبے غار میں سانپوں کا ڈیرا ہے جہاں پر ہول ہیبت ناک بھوتوں کا بسیرا ہے مرے آگے بہت آگے مرا رنگین مستقبل ہے اک پھولوں کی وادی ہے کہ جس کی گود میں خوابوں کی الھڑ شاہزادی ہے مرے پیچھے اندھیرے غار ہیں مکڑی کے جالے ہیں مرے آگے سنہرے خواب ہیں کرنوں کے ...

مزید پڑھیے

تم نے لکھا ہے

تم نے لکھا ہے مرے خط مجھے واپس کر دو ڈر گئیں حسن دل آویز کی رسوائی سے میں نہ کہتا تھا کہ تم مجھ سے محبت نہ کرو یوں نہ کھیلو مرے جذبات کی رعنائی سے سب سمجھتے تھے ہمیشہ مجھے جان محفل اب مرا حال تو پوچھو مری تنہائی سے تم نئی بزم سجا لو گی تمہارا کیا ہے تمہیں ڈھونڈیں گی کہاں میری سلگتی ...

مزید پڑھیے

آٹوگراف

تمہارے نام کے نقطے یہ خوبرو نقطے بنائے ہیں جو تمہارے قلم نے کاغذ پر حسین آنکھوں سے تکتے ہیں اس طرح مجھ کو کہ جیسے دھند بھرے خواب کے جزیرے میں سلونی سانولی یادوں کا حسن لرزاں ہو تمہارا نام ہے حرف و صدا کی لہروں میں ابھرتی ڈوبتی پرچھائیوں کا عکس جمیل سلگ کے جھانک رہی ہیں پگھلتے ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتی ہوں تجھے میں

دور کسی کونے میں میں بیٹھ جاؤں چپی لئے نہ لوگ ہوں نہ شور ہو ہوں بس اگر تو جذبات ہوں ہے نہیں تصویر ان کی نہ کوئی یادیں بچی ہے اگر جو پاس میرے بس تیری وعدیں بچی ڈھونڈھتی ہوں اب تجھے میں دل کی گہرائیوں میں ہوں لاپتہ سا ہو گیا تو میں کھو گئی تنہائیوں میں تھی کبھی میں تھاہ سمندر بن گئی ...

مزید پڑھیے

کیونکہ

اتنے اونچے سرہانے کی مجھے عادت نہیں ہے کیونکہ تیرے بازوؤں میں سونے کی عادت مجھے ہے کہیں ملتا نہیں چین مجھے کیونکہ تیری بانہوں میں ملتی راحت مجھے ہے خوابوں سے روبرو ہوں گی اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تجھ سے بڑی کوئی خواہش مجھے نہیں ہے نیند کے پلے کی اب چاہت نہیں ہے کیونکہ سکون کی ...

مزید پڑھیے

مورتی کار

اس کی ہتھیلی مٹی سے لپٹی ہوئی تھی چہرے پے اس کے کسی بات کی جلدی تھی سورج اب اپنے است پر تھا اور لوٹ رہے تھے گھر کو پرندے کل گھروں میں منے گا تیوہار ہے لوگوں کے آنگن وراجیں گی یہ مورتیاں لوگوں کے لیے یہ بھگوان ہے اور میرے ہاتھ میں ہوں گی کچھ اشرفیاں یہی سوچ کر میں دیر تک بیٹھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 321 سے 960