جلتی رات سلگتے سائے
قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے لہو لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیات میرے زانو پہ رکھ کے سر اپنا رو رہی ہے اداس تنہائی کتنا گہرا ہے درد کا رشتہ کتنا تازہ ہے زخم رسوائی حسرتوں کے دریدہ دامن میں جانے کب سے چھپائے بیٹھا ہوں دل کی محرومیوں کا سرمایہ ٹوٹے پھوٹے شراب کے ساغر موم بتی کے ادھ جلے ٹکڑے کچھ ...