شاعری

ہمارا پنجاب

تہذیب کا رہبر ہے یہ پنجاب ہمارا ہر علم کا مصدر ہے یہ پنجاب ہمارا ہر فن میں معقر ہے یہ پنجاب ہمارا عرفاں سے منور ہے یہ پنجاب ہمارا جنت سے بھی برتر ہے یہ پنجاب ہمارا ساحر بھی فسوں کار بھی ہیں اس کی بہاریں سرمست بھی سرشار بھی ہیں اس کی بہاریں دل کش بھی طرح دار بھی ہیں اس کی بہاریں گل ...

مزید پڑھیے

طلب ہے دریوزہ گر

میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھا کہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میں ایک ربط باہمی ہے نہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہے یہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کا سرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کا یہ لقمۂ خشک و حلق فرسا کبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتا فصیل تن ماورائے پس ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم

دودھیا رنگ کے قمقمے دودھیا روشنی جامنی رنگ شیشوں پہ یہ روشنی کا دھواں ذہن کی دھیمی دھیمی سلگتی ہوئی آگ کا امتحاں کچھ گرے رنگ کے سوٹ کچھ چمپئی ساریاں دست نازک میں دست صبا ادھ کھلی خواب آلود آنکھوں میں افسانے نا خواستہ گفتگو ہم نشینی سے انگڑائی کے ساتھ پہلو تہی جذب کرتی پسینے کو ...

مزید پڑھیے

خدا سے

تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والے یہ کارگاہ ہستی بازار اوج و پستی لے دیکھ ہو رہی ہے بے چینیوں کی بستی تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والے 2 پھولوں کے چاک داماں غنچوں میں سوز پنہاں گلشن بہار میں بھی بے کیف و درد ساماں سوز دروں نہیں ہے جوش جنوں نہیں ہے دل ہی سے عاشقی تھی دل ہی ...

مزید پڑھیے

شاعر کی تمنائیں

امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیں مرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیں وہ میری حسرتیں وہ آرزوئیں وہ تمنائیں جو بر آئیں تو دنیا کے جہنم سرد ہو جائیں یقیں ہوتا ہے دل کو جادۂ حق سے گزرنا ہے مجھے مستقبل انسانیت تعمیر کرنا ہے اٹھوں اٹھ کر نظام محفل ہستی بدل ڈالوں بڑھوں ...

مزید پڑھیے

وطن

بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطن وطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میں وطن کے قطرے سمندر مری نگاہوں میں وطن کے ذرے ہیں گوہر مری نگاہوں میں وطن کے خار گل تر مری نگاہوں میں بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطن مری نگاہوں میں وقعت ہے طور سینا کی مری نگاہوں میں عظمت ہے عرش عالی کی مری نگاہوں میں ...

مزید پڑھیے

بجھی ہوئی جوانیاں

نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہے نہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہے نہ ذوق جام و مے کدہ نہ بت کدہ کی آرزو نہ طوف کوئے یار کا نہ حسرتیں نہ جستجو نہ ذوق‌ تیغ ناز ہے نہ شوق ناوک نظر نہ نالۂ حزیں رسا نہ آہ سرد میں اثر نہ ہم نشیں نہ ولولہ کہ لو کہیں لگائیں ہم نہ حوصلہ کہ سختیاں فراق کی ...

مزید پڑھیے

چلی آنا اگر تم تک مری آواز جا پہنچے

یہ روشن صبح یہ میٹھے سروں میں پنچھیوں کے گان کسی کمسن کی دستک سے اٹھی یہ نوپروں کی تان چٹک پھولوں کی رنگ و بو پہ اٹھلاتے ہوئے دالان ہنسیں ہیں پر تمہارے بن میرے جی کو نہیں بھاتے پھر اب کی بار ضائع ہو نہ جائے سردیوں کی دھوپ یہ صبح و شام پوجا ارچنا یہ مندروں کی دھوپ کسی دل میں طلوع ...

مزید پڑھیے

انتظار کے دوش پر

دیوار سے لٹکائے افسردہ کھڑا ہے یوکیلپٹس کا درخت سوچ میں گم اب تک وہ سنہرے بال والی شوخ کرن آئی نہیں آتے ہی لپٹ جائے گی میرے جسم سے بیلوں کی طرح رات پگھلتی رہی ہے بوند بوند دم توڑتی ہیں آخری ساعتیں اے دل ناداں دل بے تاب ٹھہر بس کچھ ہی پل اور صبر کر اجالا ہونے بھر

مزید پڑھیے

صندل کی خوشبو اور سانپ

کوئی افعی ہے جو چندن کے پیڑ کی خوشبو سے مخمور ہو اٹھتا ہے اس کی شاخوں اس کے پتوں سے لپٹ کر نہ جانے کیا ڈھونڈتا رہتا ہے جیسے چاند کی تاک میں ہر دم چکور رہتا ہے جیسے چاند کی گھات میں کوئی میگھ کا کالا چور رہتا ہے اور پھر ایک پل ایسا بھی آتا ہے جب وہ چاند کو اپنی بانہوں میں بھر لیتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 316 سے 960