شاعری

ہجرت کی صلیب

ندامت کی کڑی دھوپ میں نہائے ہوئے زیست کے اس کڑے کوس پڑاؤ میں جہاں سیپیاں روشنی کے دخول کے لیے دریچے کھولا نہیں کرتیں سوچتا ہوں اس بھری دنیا میں تنہا کھڑا خاکستر حسرتوں کی انگلی تھامے کمہلائے ہوئے ارماں یوں بھی نکل سکتے تھے موتیوں کی چمک دمک کی چاہ میں در بہ در پھرے بغیر رشتوں کے ...

مزید پڑھیے

جامد لمحوں کے سائے

چولا بدلنے سے خصلت نہیں بدلتی لوگو تم اپنے صحت مند جسم پر چاہے کتنا ہی غازہ مل لو اس سے روح کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے روح کی پیاس بجھانے کے لیے تمہیں ان ہی مٹی سے ابلتے ہوئے چشموں کی ضرورت ہوگی ایک دن خوشبو بن کر آکاش پر اڑنے والوں کو بھی ابدی سکون مٹی کے ہی بستروں پہ ملا کرتا ...

مزید پڑھیے

تعاقب اپنے ہم زاد کا

چھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھر تعاقب کرتا ہے وہ اب میرا عمر بھر جنگل کنارے پربتوں کے تلے ہری بھری وادیوں میں جہاں بہتے تھے برساتی پرنالے چھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھر حد نگاہ تک وہ خوشنما منظر بادلوں کی اوٹ سے پہاڑی نظارے بجلی کی چمک بادل کی گرج کبھی چھت ٹپکتی تھی تو ...

مزید پڑھیے

بڑا شہر اور تنہا آدمی

دسمبر کا مہینہ اور دلی کی سردی ستاروں کی جھلملاتی جھرمٹ سے پرے آسمان کے ایک سنسان گوشے میں پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند جیسے بادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولے ہولے ہولے تنہا مسافر اور دور تک کہرے کی چادر میں لپٹی بل کھاتی سڑکیں دھند کی غبار میں کھویا ہوا انڈیا گیٹ ٹھنڈ میں ...

مزید پڑھیے

نوستالجیا

وقت کبھی ٹھہرتا نہیں سمندر کی لہروں کی طرح متواتر چلتا رہتا ہے لیکن تاریک دلدل میں پھنسے ہوئے لمحے ان ساعتوں کا ارتعاش چند ثانئے کے سرگم کے سائے تمام عمر روح میں پیوست ہو کر انسان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں رحم مادر کی شریانیں جیسے بحریں موجوں کے مہیب سائے کی طرح مکین رحم کے ننھے ...

مزید پڑھیے

یہ کون سا شہر ہے

حیران ہوں یہ کون سا شہر ہے میرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھی ہر گلی ہر نکڑ پر سانپ کنڈلی مارے بیٹھے ہیں یہاں پیدا ہوتے ہی کوئی بھی سنپولہ ڈسنے کے لیے پر تولنے لگتا ہے جدھر دیکھیے ہر جگہ سانپ ہی سانپ ہیں کہیں خونی دروازے کے عقب سے تو کہیں دھولہ کنواں کے فلائی اوور پر ہر جگہ ...

مزید پڑھیے

شجر ممنوعہ سے پرے

اے بی بی حوا ہم تیرے بچے تجھ سے بچھڑ کے بشری سمندر کے پے در پے تھپیڑوں سے دور اور بھی دور ہو گئے ہیں بھیڑ میں کھو گئے ہیں تمہارے ہمارے درمیاں تھا جو حرف شیریں کا قصہ وہ درد آشنا لمحہ، وہ ممتا سے لبریز رشتہ اس رشتے کی ڈور سے بندھے ہم خلاؤں میں ہچکولے کھا رہے ہیں پتنگوں کی مانند ننھے ...

مزید پڑھیے

ماس کی عورت

وہ حاملین پسلیاں جو آدمی کے کنکال کو ناؤ بنا کر کھینا چاہتی ہیں آج باد مخالف کے برعکس موج حوادث کے خلاف اپنے مفاد میں تو اس میں کیا ہے ان کا قصور تنہائی سے جو اچانک گھبرا گئے تھے حضرت آدم بس اسی بات کا سارا فسانہ سارا فتور پھر تو پسلیٔ آدم سے نمو پزیر ہوا وجود زن اسی وجود زن سے ...

مزید پڑھیے

بڑے شہر کا خواب

بڑا شہر بڑا شہر، بڑا شہر بڑا شہر کسی کے لیے تو باعث طمانیت کسی کے لیے تو سامان مسرت اور کسی کے لیے ہے تو، سراسر قہر بڑے شہر کی چاہ میں، جانے کتنے تباہ ہوئے کتنے روٹھے اپنوں سے کتنے چھوٹے ہم وطنوں سے لمحہ لمحہ الجھتے رہے سچے جھوٹے سپنوں سے بڑے شہر کا خواب لیے، ہر پل نیا عذاب ...

مزید پڑھیے

میرا پسندیدہ منظر

مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی مجھے ان دھند کی چادر میں اب لپٹے نہیں رہنا مجھے اس عالم یخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا مجھے موہوم لفظوں کا شناسائی نہیں بننا مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 317 سے 960